یہ سوء اَدب ہے اور ایسا خدا خداہی نہیں ہو سکتا ۔ ہا ں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امید اور حو صلہ دلایا کہ ادعونی استجب لکم (المو من: ۶۱) نہیں کہا کہ تم جو مانگو گے وہی دیا جاوے گا ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسّلم سے جب بعض اقتراحی نشانات مانگے ، تو آپ ؐ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا قل سبحان ربی ھل کنت الا بشر ا رسولا( بنی اسرائیل:۹۴) خدا کے رسو ل کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آداب الہٰی کو مد نظر رکھتے ہیں ۔باتیں منحصر ہیں معرفت پر۔ جس قدر معرفت بڑھی ہو ئی ہو تی ہے اسی قدر خدا تعا لیٰ کا خوف اور خشیت دل پر مستولی اور سب سے بڑھ کر معرفت انبیاء علیہ سلام کی ہو تی ہے ۔اس لیے ان کی ہر بات اور ہر ادا میںبشریت کا رنگ جدا نظرآتا ہے اور تائید ات الہیہ الگ نظر آتی ہیں۔ ہما را ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نشا ن دیکھا تا ہے جب چاہتا ہے ،وہ دنیا کو قیامت بنانا نہیں چاہتا اگر وہ ایسا کھلا ہوا ہو کہ جیسے سو رج تو پھر ایمان کیا رہا اور اس کا ثوا ب کیا ؟ایسی صورت میں کو ن بد بخت ہو گا ۔ جو انکا ر کرے گا ۔ نشا ن بیّن ہوتے ہیں لیکن ان کو با ریک بین دیکھ سکتے ہیں اور کو ئی نہین ۔اور یہ دقت نظر اور معرفت سعادت کی وجہ سے عطا ہوتی ہے اور تقویٰ سے ملتی ہے شقی اور فاسق اس کو نہیں دیکھ سکتا ۔ایمان اسوقت تک ایمان ہے جب تک اس میں کوئی پہلو اخفاکا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ بر اندا ز ہو تو وہ ایمان نہیں رہتا ۔ اگر مٹھی بند ہو اور کوئی بتا دے کہ اس میں یہ ہے تو اس کی فراست قابل تعریف ہو سکتی ہے لیکن جب مٹھی کھو ل کر دکھا دی اور پھر کسی نے کہا کہ میں بتا دیتا ہوں تو کیا ہوا۔یا پہلی رات کا چاند اگر کوئی دیکھ کر بتائے ، تو البتہ اسے تیز نظر کہیں گے ، لیکن اگر چودہویں کا چا ند ہو گیا اس وقت کوئی کہے کہ میں نے چاند دیکھ لیا ، وہ چڑھا ہوا ہے تو لوگ اسے پاگل کہیں گے ۔ غر ض معجزا ت وہی ہو تے ہیں جس کی نظیر لا نے پر دوسرے عا جز ہوں ۔انسا ن کا یہ کام نہیں کہ وہ انکی حد بند کرے کہ ایسا ہونا چاہیے ۔یا ویسا ہونا چاہیے ۔اس میں ضرور ہے کہ بعض پہلو اخفا کے ہوں کیو نکہ نشا نا ت کے ظا ہر کر نے سے اللہ تعالیٰ کی غر ض یہ ہو تی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں عر فا نی رنگ پیدا ہو جس میں ذو ق ملا ہوا ہو ۔ لیکن جب ایسی کھلی با تیں ہوں گی تو اس میں ایما نی رنگ ہی نہیں آسکتا چہ جائیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو پس اقترحی نشانات سے اس لیے منع کیا جاتا ہے اور روکا جاتا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوء ادبی کی پیدا ہو جاتی ہے جو ایما ن کی جڑ کاٹ ڈا لتی ہے ۔ ایک پرانا الہا م ابتدائے جنوری ۱۹۰۲؁ء کو ایک عرب صا حب آئے ہوئے تھے ۔ بعض لوگ ان کے متعلق مختلف رائیں رکھتے تھے ۔حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ۹ جنوری کی شب کو اس کے متعلق الہا م ہوا