رکھتاہے اور جب رجوع کرتاہے تو پھر وہ حالت نہیں رہتی ۔ اس بات کو کبھی مت بھولو کہ دنیا روزے چند آخر کار با خدا وند ۔اتنا ہی کام نہیں کہ کھا پی لیا اور ببائم کی طرح زندگی بسر کر لی ۔انسان بہت بڑی زمہ داریاں لے کر آتا ہے ۔اس لیے آخرت کی فکر کرنی چاہئے اور اس کی تیاری ضروری ہیے ۔اس تیاری میں جو تکالیف آتی ہیں وہ رنج و تکلیف کے رنگ میں نہ سمجھو ۔بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر بھیجتا ہے جن کو دونوں بہشتوں کا مزہ چکھانا چاہتا ہے ۔ ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمان:۴۷) مصائب آتے ہیں تاکہ ان عارضی اُمور کو جو تکلف کے رنگ میں ہوتے ہیں نکال دے ۔ مولوی رومیؔنے کیا اچھا کہا ہے۔ عشق اوّل سر کش وخُونی بود تا گریزو ہر کہ بیرونی بود سید عبدالقادر جیلانی بھی ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ جب مومن بنناچاہتاہے تو ضرور ہے کہ اس پردکھ اور ابتلاء آویں اور وہ یہاں تک آئے ہیں کہ وہ اپنے آپ کوقریب موت سمجھتاہے اور پھر جب اس حالت تک پہنچ جاتاہے تو رحمت الٰہیہ کاجو ش ہوتاہے ۔ تو قلنا یا نا رکو نی بردا و سلا ما (الانبیاء:۷۰) کا حکم ہوتا ہے۔اصل اور آخری بات یہی ہے۔مگر نہ شنیدہ ای کہ چہ غم داری۔ ؎ٰ ۹ جنوری ۱۹۰۶؁ء آیاتِ مُبین میرے نزدیک آیات مبین وہ ہوتی ہیں ۔مخالف جن کے مقابلہ سے عاجز ہو جا وے ۔ خواہ وہ کچھ ہی ہو ۔جس کا مقابلہ نہ کر سکے وہ اعجا ز ٹھہر جا ئے گا جبکہ اس کی تحدّی کی گئی ہو ۔یاد رکھنا چا ہیے کہ اقتراح کے نشانوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ۔نبی کبھی جرأت کر کے یہ نہیں کہے گا کہ تم جو نشا ن مجھ سے مانگومیں وہی دکھا نے کو تیار ہوں اس کے منہ سے جب نکلے گا یہی نکلے گا انماالایت عنداللہ (العنکبوت:۵۱) اور یہی اس کی صداقت کا نشا ن ہو تا ہے کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا مگر وہ آنکھو ں کے اندھے ہیں ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہو تی ، اس کیے وہ ایسے اعترا ض کر تے ہیں اور نہ ذات باری کی عزت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہو تا ہے ہمارا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیںوہ وہی کر دے