اگر وہ جلد باز نہ ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدانہ ہوتا۔ چالیس برس تک دُعاؤں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا ۔ آخر چالیس برس کے بعد وہ دُعائیںکھینچ کر یوسف علیہ السلام کو لے ہی آئیں اس عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ یوسف کو بے فائدہ یاد کرتاہے ۔ مگر اُنھوں نے یہی کہاکہ میں خداسے وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے ، بیشک ان کو کچھ خبر نہ تھی مگر یہ کہا انی لاجدریج یوسف (یوسف۹۵) پہلے تو اتنا ہی معلوم تھاکہ دُعاؤں کاسلسلہ لمباہوگیاہے اگر اللہ تعالیٰ نے دُعاؤں میں محروم رکھناہوتاتو وہ جلد جواب دیتا،مگر اس سلسہ کو لمباہوناقبولیّت کی دلیل ہے کیونکہ کریم سائل کو دیر تک بٹھاکر کبھی محروم نہ کرتابلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسانہیں کرتا، وہ بھی سائل کو زیادہ دیر تک دروازے پر بٹھائے تو آخر اس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتاہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے دُعاؤں کے زمانہ کی درازی پر ۔ وابیضت عینہ (یوسف ۸۵) قرآن میں خود دلالت کر رہی ہیں۔ غرض دُعاؤں کے سلسلہ کے دراز ہونے سے کبھی گھبرانا نہیں چائیے ۔ اللہ تعالی ٰہر نبی کی تکمیل بھی جدا جدا پیرایوں میں کرتاہے حضرت یقوب کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے اسی غم میں رکھی تھی ۔ مختصر یہ کہ دُعاکایہ اُصول ہے جو اس کو نہیں جانتاوہ خطرناک حالت میں پڑتاہے اور جو اس اُصول کو سمجھ لیتاہے اس کا انجام اچھااور مبارک ہوتاہے ۔ متقی کے لیے مصائب ترقی کا باعث ہوتے ہیں اور جو لوگ حیوانات کی طرح زندگی بسر کرہیں ۔ اللہ تعالیٰ جب ان کو پکڑتاہے تو۔ مگر مومن کے حق میںاس کی یہ عادت نہیں ہے ۔ اُن تکالیف کا انجام اچھاہوتاہے اور انجام کار متقی کے لیے ہی ہے ۔جیسے فرمایا: العاقبۃالمتقین (القصص: ۸۳) اُن کو جو تکالیف اور مصائب آتے ہیں۔ وہ بھی ان کی ترقیوں کا باعث بنتی ہیں تاکہ ان کا تجربہ ہو جاوے اللہ تعالیٰ پھر ان کے دن پھیر دیتا ہے اور یہ قائدہ کی بات ہے کہ جس شخص کے شکنجہ کے دن آتے ہیں اس پر بہائمی زندگی کا اثر نہیںرہتا ۔ اس پر ایک موت ضرور آجاتی ہے اور خدا شناسی کے بعد وہ لذتیںاو رذوق بہائمی سیرت میں معلوم ہوتے تھے نہیں رہت ،بلکہ ان میں تلخی اور کدورت اور کراہت پیدا ہوتی ہے اور نیکیوں کی طرف توجہ کرنا ایک معمولی عادت ہوجاتی ہے پہلے جو نیکیوں کے کرنے میں طبیعت پر نگرانی اور سختی ہوتی تھی وہ نہیں رہتی ۔ پس یاد رکھو جب تک نفسانی جوشوں سے ملی ہوئی مُرادیں ہوتی ہیں اس وقت تک خداان کو مصلحتاًالگ