ارادہ کا مالک تب ہی معلوم ہوتاہے کہ وہ دُعاقبول ہواور کرنیوالے امر کو کرے اور نہ کرنے والے نہ کرے ۔ غرض اگر قبولیت ِدُعانہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر بہت سے شکوک پیدا ہو سکتے تھے اور ہوئے او ر حقیقت میںجو لوگ قبولیت دُعاکے قائل نہیں ہیں اُن کے پاس اللہ تعالیٰ کی ہستی کی کوئی دلیل ہی نہیں ہے ۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ جو دُعااور اس کی قبولیت پر ایمان نہیں لاتا وہ جہنم میں جاوے گا ، وہ خداہی کاقائل نہیں اللہ تعالیٰ کی شناخت کایہی طریق ہے اس وقت تک دُعا کرتارہے جبتک خدااس کے دل میں یہ یقین نہ بھر دے او ر اناالحق کی آوازاس کو نہ اجاوے ۔ قبولیّت دُعاکے لیے صبر شرط ہے اس میںشک نہیںاس مرحلے کو طے کرنے اور اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت سے مشکلات ہیں اور تکلیفیں ہیں ۔مگر ان سب کا علاج صبر سے ہوتاہے ،حافظ ؔنے اچھاکہا ہے ۔شعر ؎گویندسنگ لعل شود در مقام صبر آرے شوددلیک بخُونِ جگر شود یادرکھوکوئی آدمی کبھی دُعاسے فیض نہیں اُٹھاسکتا ۔ جب تک وہ صبر میں حد نہ کر دے اور استقلال کے ساتھ دُعاؤںمیں نہ لگارہے۔ اللہ تعالیٰ پرکبھی بد ظنی اور بد گمانی نہ کرے ۔ اُس کو تمام قدرتو ں اور ارادوں کا مالک تصور کرو یقین کرے پھر صبر کے ساتھ دُعاؤں میں لگا رہے ۔ وہ وقت آجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اُس کی دُعاؤں کو سُن لے گا ا و ر اسے جوا ب دے گا ۔جو لو گ اس نسخہ کو استعما ل کر تے ہیں ‘ وہ کبھی بد نصیب اور مر ہو م نہیں ہو سکتے بلکہ یقیناََ وہ اپنے مقصد میں کامیا ب ہو تے ہیں ۔ خدا تعا لیٰ کی قد رتیں اور طا قتیں بے شما ر ہیں اس نے انسانی تکمیل کے لیے دیر تک صبر کا قا نو ن رکھا ہے پس اس کو وہ بدلتا نہیں اور جو چا ہتا ہے کہ وہ اس قانو ن کو اس کے لیے بد ل دے ۔وہ گویا اللہ تعا لیٰ کی جنا ب میں گستا خی کر تا ہے اور بے ادبی کی جرأت کرتا ہے پھر یہ بھی یا د رکھنا چا ہیے کہ بعض لوگ بے صبری سے کام لیتے ہیں اور مدا ری کی طر ح چا ہتے ہیں ایک دم میں سب کا م ہو جایئں میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بے صبری کرے تو بھلا بے صبری سے خدا تعا لیٰ کا کیا بگا ڑے گا ۔ اپنا ہی نقصا ن کرے گا ۔ بے صبری کر کے دیکھ لے وہ کہا ں جائے گا میں ان با تو ں کو نہیں مان سکتا اور درحقیقت یہ جھوٹے قصے اور فرضی کہا نیاں ہیںکہ فلا ں فقیر نے پھو نک ما ر کر یہ بنا دیا وہ کر دیا ۔ یہ اللہ تعا لیٰ کی سنتااور قرآن شریف کے خلا ف ہے اس لیے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ ہر امر کے فیصلہ کے لیے معیا ر قرآن ہے ۔ دیکھو حضرت یعقو ب علیہ سلا م کا پیا را بیٹا یو سف علیہ السلام جب بھا ئیوں کی شرارت سے ان کو الگ ہو گیا، آپ ؑ چالیس برس تک اس کے لیے دعا ئیں کرتے رہے۔