داخل ہوتی ہیں وہ شخص نقصان اُٹھاتاہے اور ناکام رہتاہے جو گبھر انے والااور قبل ازوقت چاہنے ولاہو ۔ گر بیاہ کے دس دن بعد مرد عورت یہ خواہش کریں کہ اب بچّہ پیداہوجاوے ، تو یہ کیسی حماقت ہوگی ،اس وقت تو اسقاط کے خون اور چھچھڑوں سے بھی بے نصیب رہے گی ۔ اسی طرح جو سبزہ کو نمونہیں دیتاوہ دانپڑنے کی نوبت ہی نہیں آنے دیتا۔ میںنے ارادہ یہ کیاہواہے کہ ایک بار اورشرح وبسط کے ساتھ دُعاکے مضمون پر ایک رسالہ لکھوں۔مسلمان دُعاسے بالکل ناواقف ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جن کو بد قسممتی سے ایسا موقعہ ملاکہ دعاکریں ، مگر انہوں نے صبر اور استقلال سے چونکہ کام نہ لیااس لیے نامراد رہ کر سیّداحمدخانی مذہب اختیارکر لیادُعاکوئی چیزنہیں ۔یہ دھوکااور غلطی اس لیے لگتی ہے کہ وہ حقیقت ِدُعاسے محض ناواقف ہوتے ہیں اور اس کے اثر سے بے خبر اور پنی خیالی امیدوں کوپورانہ ہوتے دیکھ کر کہہ اُٹھتے ہیں کے دُعاکوئی چیز نہیں اور اس سے بر گشتہ ہو جاتے ہیں ۔ دُعاربوبیت اورعبودیت کاایک کامل رشتہ ہے ۔ گر دُعاؤں کااثر نہ ہوتاتو اس کاہونانہ ہونابرابر ہے۔ ۱؎ ؎ٰالحکم جلد نمبر ۴۵صفحہ۱تا۳پرچہ۱۷دِسمبر ۱۹۰۲؁ء ۸جنوری ۱۹۰۲؁ء(بقیہ تقریر ) قبُولیّت دُعاہستی باری تعالیٰ کی زبردست دلیل ہے اللہ تعالیٰ کی شناخت کی یہ زبردست دلیل اور اُس کی ہستی پر بڑی بھاری شہادت ہے کے محوداثبات اُس کے ہاتھ میں ہے ۔ یمحواللہ مایشاء ویثبتت۔(الرعد:۴۰) دیکھواجرام سمادی کتنے بڑے اور عظیم الشان نظر آتے ہیںاور ان کی عظمت کو دیکھ کر ہی بعض نادان اُن کی پرستش کی طرف جھک پڑتے ہیں او راُنھوں نے اُن میں صفات ِالٰہی کو مان لیا ہے ۔ جیسے ہندویا اور دوسرے بُت پرست یاآتش پرست وغیرہ جو سورج کی پوجاکرتے ہیں او راس کو اپنا معبود سمجھتے ہیں ۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیںکہ سورج اپنے اختیار سے چڑھتاہے یاچُھپتاہے ؟ہر گز نہیں اگر وہ کہیں بھی تووہ کیاثبوت دے سکتے ہیں ۔ وہ ذراسُورج کے سامنے یہ دُعاتو کریں ایک دن وہ نہ چڑھے یا دوپہر کو مثلاچُھپ جاوے تاکہ معلوم ہو کہ وہ کوئی اختیار اور ارادہ بھی رکھتاہے ۔اس کا ٹھیک وقت پر طلو عاور غر وب تو صاف ظا ہر کرتا ہے کہ اس کااپناذاتی کوئی اختیار اور ارادہ نہیں ہے ۔