دُعاؤں کے نتائج میں تاخیر اورتو قّف کی وجہ کبھی ایسا اتفا ق ہوتا ہے جہ ایک طالب علم نہا یت رقت اور درد کے سا تھ دعائیں کرتا ہے مگر وہ دیکھتا ہے کہ ان دعاؤں کے نتائج میں ایک تاخیر اور توقف واقع ہوتا ہے ۔اس کا سِرّ کیا ہوتا ہے ؟اس میںیہ نکتہ یاد رکھنے کے قا بل ہے کہ اول تو جس قد ر امور دنیا میں ہو تے ہیں ان میں ایک قسم کی تد ریج پا ئی جا تی ہے۔ دیکھو ایک بچّہ کو انسان بننے کے لیے کس قدر مراحلے اور منازل طے کرنے پڑتے ہیں ۔ایک بیج کا درخت بننے کے لیے کس قدر توقّف ہوتاہے ۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے اُمور کا نفاذبھی تدریجاًہوتاہے ۔دوسرے اس توقّف میں یہ مصلحت الٰہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے عزم اور عقدِہمت میں پختہ ہوجاوے اورمعرفت میں استحکام اور رُسوخ ہو۔ یہ قائدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلٰی مراتب اور مدراج کو احاصل کرناچاہتا ہے اُسی قدر اس کو زیادہ محنت اور دقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہوتو انسان کامیابیوں کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا ۔اس لیے ضروری ہوتاہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے ۔ ان مع العسریسرا (الم نشرح:۷) اسی لیے فرمایاہے کے ۔ دنیا میں کوئی کامیابی ایسی او رراحت ایسی نہیں ہے جس کی ابتداء اوراوّل میں کوئی رنج نہیں اور مشکل نہ ہو ۔ہمت کو نہ ہارنے والا مستقل مزاج فائدہ اُٹھالیتے ہیں اور کچّے اور ناواقف راستہ میں ہی تھک کر رہ جاتے ہیں پنجابی میں کسی نے کہا ہے ۔ ایہو ہیگی کیمیاجے دن تھوڑے ہو پس جب خدا پر سچّا ایمان ہو کر وہ میری دُعاؤں ک وسننے والا ہے تو یہ ایمان مشکلات میں بھی ایک لذیذایمان ہو جاتاہے اور غم میں ایک اعلیٰ یاقوتی کاکام دیتاہے ۔ہموم وغموم کے وقت انسان کوئی پناہ نہ ہو تو دل کمزور ہو جاتاہے او رآخر وہ مایوس ہوکر ہلاک ہو جاتاہے اور خود کشی کرنے پر آمادہ ہو جاتاہے ، بلکہ بہت سے ایسے بدقسمت یورپ کے ملکو ں میں خصوصاًپائے جاتے ہیں ۔جوذراسی نامرادی پر گوکی کھاکر مر جاتے ہیں ۔ ایسے کوگوں کاخود کشی کرنا خود اُن کے مذہب کی موت اورکمزوری کی دلیل ہے ۔ اگر اُس میں کوئی قوت اور طاقت ہوتی ہے اپنے ماننے والوں کو ایسی یاس اور نامرادی کی حالت میں نہ چھوڑتا۔ لیکن اگر خداتعالیٰ پر اُسے ایمان ہے او راس قادر کریم ہسی پر یقین رکھتاہے کہ وہ دُعائیں سُنتاہے ، تو اس کے دل میں ایک طاقت آتی ہے ۔ حقیقتِ دُعا یہ دعائیں حقیقت میں بہت قابل قدر ہوتی ہیں اور دُعاؤں والا آخر کار کامیاب ہوجاتاہے ۔ہاں یہ نادانی اور سوء ادب ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ لڑناچاہے۔مثلاًیہ دُعاکرے کہ رات کے پہلے حصّہ میں سورج نکل آوے ۔اس قسم کی دُعائیں گستاخی میں