جیسا بوٹیاں ہزاروں قسم کی ہوتی ہیں اور جمادات میں بھی مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں ۔ کوئی چاندی کی کان ہے کوئی سونے اور تانبے اور لوہے کی اسی طرح پر انسانی فطرتیں مختلف قسم کی ہیں بعض انسان اس قسم کی فطرت رکھتے ہیں کہ وہ ایک گناہ سے نفرت کرتے ہیں اور بعض کسی اور قسم کے گناہ سے مثلاً ایک آدمی ہے کہ وہ چوری تو کبھی نہیں کرتا لیکن زنا کاری اور اور قسم کی بے حیائی اور بے باکی کرتا ہے یا ایک زنا سے تو بچتا ہے لیکن کسی کا مال مار لینے یا خون کردینے کو گناہ ہی نہیں سمجھتا اور بڑی دلیری کے ساتھ ایسی بے ہودہ بات اور افعال کا مرتکب ہوتا ہے غرض ہر ایک آدمی کو جو دیکھتے ہیں تو اسے کسی نہ کسی قسم کے گناہ میں مبتلا پاتے ہیں۔اور بعض حصوں اور بعض قسم کے گناہوں میں بالکل معصوم ہوتے ہیں پس جس قدر افراد انسانوں کے پائے جاتے ہیں ان کی بابت ہم کبھی بھی قطعی اور یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب ایک ہی قسم کے گناہ کرتے ہیں بلکہ کوء کسی میں مبتلا ہے کوئی دوسرے میں گرفتار ہے کسی قوم کی بابت وہ مغرب میں ہو مشرق میں ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ بالکل گناہ سے بچی ہوئی ہے صرف اس قدر تو مانیں گے کہ فلاں گناہ وہ نہیں کرتی مگر یہ کبھی نہیں کہہ سکتے بالکل نہیںکرتی ۔ یہ فطرت اگر یہ قوت کہ بالکل گناہوں سے بیزاری اور نفرت پیدا ہو جائے ۔سچی تبدیلی کے بغیر کسی کو مل نہیں سکتی اور اسی تبدیلی کو پید اکرنا ہمارا کام ہے۔ جو لوگ صدق دل اور اخلاص کے ساتھ صحت نیت اور پاک ارادہ اور سچي تلاش کے ساتھ ایک مدت تک ہماری صحبت میں رہیں تو ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی تجلیات کی چمکار سے ان کی اندرونی تاریکیوں کو دور کر دے گااور انہیں ایک نئی معرفت اور نیا یقین خدا پر پیدا ہوگا اور یہی وہ ذریعے ہیں جو انسان کو گنا کے زہر کے اثر سے بچا لیتے ہیں اورا س کے لئے تریاقی قوت پیدا کر دیتے ہیں۔یہی وہ خدمت ہے جو ہمارے سپرد ہوئی ہے اور اسی ایک ضرورت کو میں پورا کرنا چاہتا ہوں جو انسا ن اس زنجیر اور قید سے نجات پانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے جو گناہ کی زنجیریں ہیں اسے اسی طریق پر نجات ملے گی۔ پس اگر کوئی قصہ کہانیں کو ہاتھ سے پھینک کر اور ان وہمی حیلوں اور خیالی ذریعوں کو چھوڑ کر کسی کی خود کشی بھی گناہ سے بچا سکتی ہے صدق اور اخلاص سے یہاں رہے تو وہ خدا کو دیکھ لے گا اور خدا کو دیکھ لینا ہی گناہ پر موت وارد کرتا ہے او رنہ اتنی ہی بات پر خوش ہو جانا کہ فلاں گناہ مجھ میں نہیںیا فلاں عیب سے میں بچا ہوا ہوں، حقیقی نجات کا وارث نہیں بنا سکتا۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کسی نے سڑکنیا کھا کر موت حاصل کی اور کسی سے سم الفار یا بادام کے زہر سے جان دے دی ۔ ہم کو اس سے کچھ غرض نہیں ہے کہ عیسائیوں کے طریق ِنجات پر یا کسی اور مذہب کے پیش کردہ دستور پر کوئی لمبی چوڑی بحث کریں۔ تجربہ اور مشاہدہ خود گوا ہے ہم تو صرف یہی طریق بتانا چاہتے