ہیں جو خد ا نے ہمیں سمجھا یا ہے او رجس طریق پر ہمیں اطلاع دی ہے ۔ پس گناہوں سے بچنے کا سچا طریق جو مجھے بتایا گیا ہے او رجس کوکل انبیاء کی پاک جماعت اپنے اپنے وقت پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہ یہی کہ انسانی جذبات پر انسان کو اسی وقت کامل فتح مل سکتی ہے اور شیطان اور اس کی ذریت کی شکست کا یہی وقت ہو سکتاہے جب انسان کے دل پر ایک درخشاں یقین نازل ہو کہ خدا ہے اور اس کی پاک صفات کے صریح خلاف ہے کہ کوئی گناہ کرے اور گناہ گاروں پر اس کا غضب بھڑکتا ہے اور پاک بازوں کو اس کا فضل اور رحمت ہر بلا سے نجات دیتے ہیں اور یہ معرفت اور یہ یقین حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ان لوگوں کے پاس ایک عرصہ تک نہ رہیں اور جو خدا تعالیٰ سے شدید تعلق رکھتے ہیں اور خدا سے لے کر مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔ پس یہی ہماری غرض ہے جو لے کر ہم دنیا میں آئے ہیں اورا سی کو ہم نے آپ کو سنا دیا ہے اب آپ اس پر غور کریں اور جو سوال آپ کا اس پر ہو وہ آپ بے شک کریں۔٭ ۱۸؍نومبر ۱۹۰۱ء؁ مسٹر ڈکسن:’’ کیا خدا اس جہان میں سزا دیتا ہے یا دوسرے جہان میں؟‘‘ حضرت اقدس :’’میں نے آپ کے سوال کو سمجھ لیا ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نبیوںکی معرفت ہمیں بتایا ہے کہ اور واقعات صحیحہ نے جس کی شہادت دی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سزا و جزا کا قانون خدا نے ایسا مقرر کیا ہے کہ اس کا سلسلہ اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے اور جو شوخیاں اور شرارتیں انسان کرتا ہے وہ بجائے خود انہیں محسوس کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ان کی سزا اور پاداش جو یہاں ملتی ہے اس کی غرض تنبیہ ہوتی ہے تاکہ توبہ اور رجوع سے شوخ انسان اپنی حالت میں نمایاں تبدیلی پیدا کرے اور خداتعالیٰ کے ساتھ عبودیت کا جو رشتہ ہے اس کو قائم کرنے میں جو غفلت اس نے کی ہے اس پر اطلاع پا کر اسے مستحکم کرنا چاہئے ۔ اس وقت یا تو انسان اس تنبیہہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی کمزوری کا علاج اللہ تعالیٰ کی مدد سے چاہتا ہے اور یا اپنی شقاوت سے اس میں دلیر ہو جاتا اور اپنی سر کشی اور شرارت میں ترقی کر کے جہنم کا وارث ٹھہر جاتا ہے ۔اس دنیا میں جو سزائیں بطور تنبیہ دی جاتی ہیں ، ان کی مثال مکتب کی سی ہے۔ جیسے مکتب میں کچھ خفیف سی سزائیں بچوںکو ان کی غفلت اور سستی پر دی جاتی ہیں۔ اس سے یہ