زندگی پیدا ہو جاتی ہے جیسے انبیاء علیہم السلام اور دوسرے راستبازوں کی زندگیاں تھیں۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی رحمت فرماں برداروں اور راست بازوں پر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور نیکی اور پاکیزگی کا تحفہ لے کر جاتے ہیں اور شرارتوں اور بد کاریوں سے دور رہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ سے بعد اور حرماں کا موجب ہیں ایسے لوگ ایک چشمہ سے دھوئے جاتے ہیں جس کا دھویا ہوا پھرکبھی میلا اور ناپاک نہیں ہوتا اور انہیں وہ شربت پلایا جاتا ہے جس کا پینے والا کبھی پیاسا نہیں ہوتا انہیں وہ زندگی عطا ہوتی ہے جس پر کبھی موت وارد نہیں ہوتی ، انہیں وہ جنت دیا جاتا ہے جس سے کبھی نکلنا نہیں ہوتا ۔برخلاف اس کے وہ لوگ جو اس چشمہ سے سیراب نہیں ہوتے اور خدا کے ہاتھوں سے جس کا مسح نہیں ہوتا وہ خدا سے دور جاتے ہیں اور شیطان کے قریب ہو جاتے ہیں انہں نے خدا کی طرف آنا چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہ نہ ان میں تسلی کی کوئی راہ باقی ہے نہ ان کے پاس دلائل ہیں اور نہ تاثیرات ۔
ایک عیسائی سے اگر پوچھا جائے کہ کہ تو جو دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح کے خون سے میرے گناہ پاک ہو گئے ہیں تیرے پاس اس کا کیا ثبوت ہے ؟ وہ کون سے فوق العادت امور تجھ میں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ایک غیر معمولی خدا ترسی اور نکو کاری کی روح تجھ میں پھونک دی ہے تو کچھ جوا ب نہ دے سکے گا۔ برخلاف اس کے کوئی مجھ سے پوچھے تو میں اس کو ان خارق عادت امور کا زبر دست ثبوت دے سکتا ہوں اور اگر کوئی طالب صادق ہو اور ا س میں شتا کاری اور بدظنی کی قوت بڑھی ہوئی نہ ہو تو میں اسے مشاہدہ کرا سکتا ہوں۔
بعض ایسے امور ہو تے ہیں کہ اگر ان میں دلائل نہ بھی ملیں تو ان کی تاثیرات بجائے خود انسان کو قائل کر دیتی ہیں اور وہی تاثیرات دلائل کے قائم مقام ہو جاتی ہیں۔کفارہ کے حق ہونے کے اگر دلائل عیسائیوں کے پاس نہیں ہیں جیسا کہ وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک راز ہے تو ہم پوچھتے ہیں کہ وہ ان تاثیرات کو ہی پیش کریں جو کفارہ کے اعتقاد نے پیدا کی ہیں۔ یورپ کی اباحتی زندگی دور سے ان تاثیرات کا نمونہ دکھا رہی ہے اس سے بڑھ کر وہ کیا پیش کریں گے اور یہ عقل مندکے سمجھ لینے کے واسطے کافی ہے کیا اثر ہوا۔
ایک اور بات جو یاد رکھنے کے قابل ہے جس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے بعض آدمیوں کو بڑے بڑے دھوکے لگے ہیں اور وہ جادۂ مستقیم سے بھٹک گئے ہیں اور وہ یہ انسان کی پیدائش ایک قسم کی نہیں۔