مجیب اور بولنے والا خدا صرف اسلامؔ پیش کرتا ہے دنیا میں جس قدر قومیں ہیں۔ کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعائوں کو سنتا ہو۔ کیا ایک ہندو ایک پتھر کے سامنے بیٹھ کر یا درخت کے آگے کھڑا ہو کر یا بیل کے روبرو ہاتھ جوڑ کر کہہ سکتا ہے کہ میرا خدا ایسا ہے کہ میں اس سے دعاکروں تو یہ مجھے جواب دیتاہے؟ ہر گز نہیں۔ کیاایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے۔ وہ میری دعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلامؔ کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ جن سے کہا۔ ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا اور یہ بالکل سچی بات ہے۔ کوئی ہو جو یاک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو۔ وہ مجاہدہ کرے اور دعائوں میں لگا رہے۔ آخر اس کی دعائوں کا جواب اُسے ضرور دیا جاوے گا۔ قرآن شریف میں ایک مقام پر ان لوگوں کے لیے جو گو سالہ پرستی کرتے ہیں اور گو سالہ کو خدا بناتے ہیں آیا ہے۔ الایرجع الیھم قولا (طٰہٰ : ۹۰) کہ وہ اُن کی بات کا کوئی جواب اُن کو نہیں دیتا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا بولتے نہیں ہیں وہ گوسالہ ہی ہیں۔ہم نے عیسائیوں سے بار ہا پچھا ہے کہ اگر تمہارا خدا ایسا ہی ہے جو دعائوں کو سنتا ہے اور ان کے جواب دیتا ہے، تو بتائو وہ کس سے بولتا ہے؟ تم جو یسوع کو خدا کہتے ہو۔ پھر اس کو بلا کر دکھائو۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ سارے عیسائی اکٹھے ہو کر بھی یسوع کو پکاریں۔وہ یقینا کوئی جواب نہ دے گا، کیونکہ وہ مر گیا۔ عیسائیوں کو ملزم کرنے والا سوال عیسائیوں کو ملزم کرنے کے واسطے اس سے بڑھ کر کوئے تیز ہتھیار نہیں ہے۔ ان سے پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ کیا وہ ناطق خدا ہے یا غیر ناطق؟اگر غیر ناطق ہے تو اس کا گونگا ہونا ہی اُس کے ابطال کی دلیل ہے۔ لیکن اگر وہ ناطق ہ تو پھر اس کو ہمارے مقابل پر بلا کر دکھائو اور اس سے وہ بولیاں بلوائو جن سے سمجھاجاتا ہے کہ وہ انسان کی مقدرت اور طاقت سے باہر ہیں یعنی عظیم الشان پیشگوئیں اور آئندہ کی خبریں۔ مگر وہ پیشگوئیاں اس قسم کی ہی نہیں ہونی چاہئیں جو یسوع نے خود اپنی زندگی میں کی تھیں کہ مرغ بانگ دے گا۔ یا لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑیں گے بلکہ ایسی پیشگوئیں جن میں قیافہ اور فراست کو دخل نہ ہو بلکہ وہ انسانی طاقت اور ھراست سے بالاتر ہوں۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی پادری یہ کہنے کی طاقت نہیں رکھ سکتا کہ خدائے قادر کے مقابلہ میں ایک عاجز اور ضعیف انسان یسوع کی اقتداری پیشگوئیاں پیش کر سکے۔ غرض یہ مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کا خدا دعائوں کا سننے والا ہے۔