سکتا کہ ان کو کسی لڑائی کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ وقت ضائع کیا جاتا ہے اور لڑکوں کا وقت کھیل کود میں دیا جاتا ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اعضاء جو حرکت کو چاہتے ہیں۔ اگر ان کو بالکل بیکار چھوڑ دیا جائے تو پھر ان کی طاقتیں زائل اور ضائع ہو جاویں اور اس طرح پر اُس کو پورا کیا جاتا ہے۔ بظاہر ورزش کرنے سے اعضاء کو تکلیف اور کسی قدر تکان اُن کی پرورش اور صحت کا موجب ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح پر ہماری فطرت کثھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ تکلیھ کو بھی چاہتی ہے تا کہ تکمیل ہو جاوے۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہی ہوتا ہے۔ جو وہ انسان کو بعض اوقات ابتلائوں میں ڈال دیتا ہے۔ اس سے اس کی رضا بالقضا اور صبر کی قوتیں بڑھتی ہیں۔ جس شخص کو خدا پر یقین نہیں ہوتا ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ ذرا سی تکلیف پہنچنے پر گھبرا جاتے ہیں اور وہ خود کشی میں آرام دیکھتا ہے، مگر انسان کی تکمیل اور تربیت چاہتی ہے کہ اس پر اس قسم کی ابتلاء آویں۔اور تاکہ اﷲ تعالیٰ پر اس کا یقین بڑھے۔ اﷲ تعلیٰ ہر چیز پر قادر ہے ، لیکن جن کو تفرقہ اور ابتلاء نہیں آتا ان کا حال دیکھوکہ کیسا ہوتا ہے۔وہ بالکل دنیا اور اس کی خواہشوں میں منہمک ہو گئے ہیں اُن کا سر اوپر کی طرف نہیں اٹھتا۔ خدا تعالیٰ کا ان کوبھول کر بھی خیال نہیں آتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اعلیٰ درجہ کی خوبیوں کو ضائع کر دیا اور بجائے اس کے ادنیٰ درجہ کی باتیں حاصل کیں، کیونکہ ایمان اور عرفان کی ترقی ان کے لیے وہ راحت اور اطمینان کا سامان پیدا کرتے جو کسی مال و دولت اور دنیا کی لذت میں نہیں ہیں۔ مگر افسوس کہ وہ ایک بچہ کی طرح آگ کے انگارہ پر خوش ہو جاتے ہیں اور اس کی سوزش اور نقصان رسانی سے آگاہ نہیں، لیکن جن پر اﷲ تعالیٰ کافضل ہوت اہے اور جن کو ایمان اور یقین کی دولت سے مالا مال کرتا ہے ان پر ابتلاء آتا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ ہم پر کوئی ابتلاء نہیں آیا، وہ بدقسمت ہیں۔وہ نازوتعمت میں رہ کر بہائم کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ان کی زبان ہے، مگر وہ حق بول نہیں سکتی۔ خدا کی حمد وثنا اس پر جاری نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف فسق وفجور کی باتیں کرنے کے لیے اور مزہ چکھنے کے واسطے ہے۔ ان کی آنکھیں ہیں، مگر وہ قدرت کا نظارہ نہیں دیکھ سکتیں، بلکہ وہ بدکاری کے لیے ہیں۔ پھر ان کی خوشی اور راحت کہاں سے میسر آتی ہے۔ یہ مت سمجھو کہ جس کو ہم وغم پہنچتا ہے۔ وہ بدقسمت ہے۔ نہیں۔ خدا اس کو پیار کرتا ہے۔ جیسے مرہم لگانے سے پہلے چیرنا اور جراحی کا عمل ضروری ہے۔ غرض یہ انسانی فطرت میں ایک امر واقع شدہ ہے جس سے اﷲ تعالیٰ یہ ثابت کرتے ہے کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے اور اس میں کیا کیا بلائیں اور حوادث آتے ہیں۔ابتلائوں میں ہی دعائوں کے عجیب وغریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعائوں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔