شیطان کو نقب لگا کر ایمان کا مال لے جانے کا موقع دینا ہے۔
اس وقت وہی خدا جو آدم پر ظاہر ہوا تھا۔اور دوسرے نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا ہے وہی مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔ اس وقت خدا نے موقعہ دیا ہے کہ تم اپنے معلومات کو بڑھا سکو۔اس لیا جو ات سمجھ میں نہ آئے اُس کوفو راً پوچھ لینا چاہیے۔جو سمجھنے سے پہلے کہتا ہے کہ سمجھ لیا۔ اس کے دل پر ایک چھالا سا پڑ جاتا ہے۔ آخر وہ نا سور ہو کر بہہ نکلتا ہے۔ میں تھکتا نہیں ہوں، خواہ کوئی ایک سال تک پوچھتا رہے۔ پس اس موقع کی قدر کرو۔میری باتوں کو سنو اور سمجھو اور ان پر عمل کرو۔پھر خادم دین بنو۔ سچائی کو ظاہر کرو۔ خدا سے محبت کرنا اور مخلوق سے ہمدردی کرنا۔ یہ دونوں باتیں دین کی ہیں۔ ان پر عمل کرو؎ٰ۔
۸؍ جنوری ۱۹۰۲ء
ابتلاء اور ہم وغم کا فائدہ
فرمایا:
’’اﷲ تعالیٰ چاہتا تو انسان کو ایک حالت میں رکھ سکتا تھا۔ مگر بعض مصالح اور امور ایسے ہوتے ہیں کہ اس پر بعض عجیب وغریب اوقات اور حالتیں آتی رہتی ہیں۔ان میں سے ایک ہم و غم کی بھی حالت ہے۔ان اختلاف حالات اور تغیر وتبدیل اوقات سے اﷲ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتیں اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔ کیا اچھا کہا ہے:
اگر دنیا بیک دستور ماندے
بسا اسرار ہا مستور ماندے
جن لوگوں کو کوئی ہم وغم دنیا میں نہیں پہنچتا اور جو بجائے خود اپنے آپ کو بڑے ہی خوش قسمت اور خوشحال سمجھتے ہیں، وہ اﷲ تعالیٰ کے بہت سے اسرار اور حقائق سے ناواقف اور ناآشنا رہتے ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ مدرسوں میں سلسلہ تعلیم کے ساتھ یہ بھی لازم رکھا گیا ہے کہ ایک خاص وقت تک لڑکے ورزش بھی کریں۔اس ورزش اور قواعد وغیرہ سے جو سکھائی جاتی ہے۔ سررشتہ تعلیم کے افسروں کا یہ منشا تو ہو نہیں