حق اور باطل کی آخری جنگ
اس جنگ سے توپ وتفنگ کی لڑائی مراد نہیں بلکہ یہ عیسائیت اورالٰہی دین کی آخری جنگ ہے ۔ عیسائیت نیزمینی خدابنالیا ہے اور یہ وُہی خدا یا خیال خد اہے جیسے بہت سی عورتیں وہمی حمل رَجاَکر لیتی ہیں ۔یہاں تک کہ پیٹ میں وہمی طور پر حر کت معلوم ہوتی ہے اور پیٹ بڑھتابھی ہے ۔اس طرح پر فرضی مسیح بنالیا گیا ہے جسے خداسمجھاگیا ہے ۔غرض سچّے کے مقابل وہ کھڑاہے اب یہ لڑائی ان دونوں میں شروع ہے اور خدااس میں اپناچمکتاہوادکھلائے گا ۔
چالیس کروڑبھی سے بھی زائد انسان عیسائی ہوچکے ہیں جب اوّل ہی اوّل یہ لوگ آئے تومولوی ان کے حملوں اور اعتراضوںسے محض ناواقف تھے اُن کو پورا علم نہ اُن کے اعتراضو ں کا تھا اور نہ قرآن شریف کے حقائق سے ہی آگاہ تھے ، بر خلاف اس کے عیسائیوں کے پاس اقبال اور تالیف قلوب کے ذریعے تھے ،اس لیے اُن کی ترقی ہوتی گئی مگر اب اُن میں ایک بھی نہیں جو اس کے تنزل کو دیکھ سکے اب ان کا دور ختم ہونے والا ہے اور مختصر طور پر جعلی فرضی خد اکو سمجھ لیںگے اصل بات تو یہ ہے کہ عیسائیوں کا تاناباناآریہ سنائن سے بھی بودہ ہے ۔ کیونکہ اُنھوںنے ساری بنیاد حیات مسیح پر رکھی ہو ئی ہے اس کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ساری عمارت گر جاتی ہے ۔ یہ بات اس زمانہ میں کہ وہ زندہ
آسمان پر گیا ہے،کوئی مان نہیں سکتا جبکہ دلائل قطعیتہ الدلالت کے ساتۃ ثابت ہو گیا کہ وہ مر گیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اب تو لاش کے دھا دینے تک توبت پہنچ گئی ہے۔ کیونکہ(سرینگر) کشمیر میں اس کی قبر واقعاتِ صحیحہ کی بناء پر ثابت ہو گئی ہے۔ ان ساری باتوں کے ہوتے ہوئے کون عقلمند یہ قبول کر سکتا ہے اور اِس کی موت دے ساتھ ہی صلیب۔ کفارہ۔ لعنت وغیرہ ساری باتیں علوم یقینیہ کی طرح غلط ثابت ہو جائیں گی۔ اِن ساری باتوں کے علاوہ یہ مذہب ایسا کمزور ہے کہ جو پہلو اس نے اختیار کیا ہے وہی بودا۔ایک لعنت ہی کے پہلو کو دیکھو۔ اگر اس پہلو کو اختیار نہ کرتے، تو بہتر تھا۔ کیونکہ جب یہ سچی بات ہے کہ لعنت کا تعلق دل سے ہے اور اس کا مھہوم یہ ہے کہ ملعون خدا کا اور خدا ملعون کا دشمن ہو جاوے اور خدا سے اس کا کوئی تعلق نہ رہے اور وہ خدا سے برگشتہ ہو جاوے تو پھر کیا باقی رہا۔ ایک کتاب میں لکھا ہے کہ مسیح کو شیطان لیے پھرا۔اگر جسمانی طور پر شیطان لیے پھرا ہوتا تو مسیح تماشہ دکھا سکتے تھے۔ اس کا کوئی معقول جواب تو نہیں دے سکے۔کسی یہودی کو شیطان کہہ دیا اور پھر تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا۔ غرض اب عیسائی مذہب کے خاتمہ کا وقت آگیا ہے۔
پس تم اپنی ہمت اور سر گرمی میں سُست نہ ہو۔ بہت سے مسلمان کہلا کر دوسرے امور میں منہمک ہو جاتے ہیں۔ مگر تم خدا سے ڈرو اور سچی تبدیلی اور تقویٰ طہارت پیدا کرو۔ اس راہ میں سست ہونا