جن وہ ہیں جو چھپ کر وار کرے اور پیار کے رنگ میں دشمنی کرتے ہیں وہی پیار جو حوّاسے آکر نحاش نے کیا تھا اس پیا ر کاانجام وہی ہونا چاہیے جو ابتدامیں ہوا۔آدم پر اس سے مصیبت آئی ۔ اُس وقت گویا وہ خداسے بڑھ کر خیر خواہ ہوگیا ۔ اسی طرح پر یہ بھی وہی حیات ابدی پیش کرتے ہیں، جو شیطان نے کی تھی،اس لیے قرآن شریف نے اوّل او ر آخر کو اس پر ختم کیا اس میں یہ سرِّتھاکہ تابتا یا جاوے کہ ایک آدم آخر میں بھی آنے والاہے قرآن شریف کے اوّل یعنی سورۃ فاتحہ کو
ولاالضالین
پر ختم کیا ۔ یہ امر تما م مفسر بلا تفا ق ما نتے ہیں کہ ضا لین سے عیسا ئی مراد ہیں اور آخر جس پر ختم ہوا وہ یہ ہے قل اعوذ برب س ۔مالک النا س الہ النا س۔من شرالو سوا سالخنا س۔الذی یو سوس فی صدورالناس۔من الجنۃ والنا س ۔(الناس:۲تا۷)
سورۃالناّس سے پہلے قل ھواللہ میں خداتعالیٰ کی تو حید بیا ن فرمائی اور اس طرح پر گویا تثلیث کی تر دید کی اس کے بعد سورۃالناّس کا بیان کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ عیسائیوں کی طرف اشارہے ۔ پس آخری وصیت یہ کہ شیطان سے بچتے رہو ، یہ شیطان وہی نحاش جس کو اس سورۃمیں خنّاس کہا ، جس سے بچنے کی ہدایت کی ،اور یہ جو فرمایاکہ ربّ کی پناہ میں آئو ۔اس سے معلوم ہو اکہ یہ جسمانی اُمور نہیں ہیں ۔بلکہ روحانی ہیں خداکی معرفت اور معارف اور حقائق پر پکّے ہو جائو تو اس سے بچ جائو گے ۔اس آخری زمانہ میں شیطان اور آدم کی آخری جنگ کا خاص ذکر ہے شیطان کی لڑائی خدااور اس کے فرشتوں سے آدم کے دساتھ ہو کر ہوتی ہے ۔ اور خداتعالیٰ اس کے ہلاک کرنے کا پورے سامان کے ساتھ اُترے گا اور خدا کامسیح اس کا مقابلہ کرے گا ۔ یہ لفظ مثیح ہے جس کے معنی خلیفہ کے ہیں عربی اور عبرانی حدیثوں میں مسیح لکھا ہے ، اور قرآن شریف میں خلیفہ لکھا ہے ۔ غرض اس کے لیے مقدّر تھا اس آخری جنگ میں خاتم الخلفاء جو چھٹے ہزار کے آخر میں پیداہو کامیاب ہو ا ۔
سورۃالعصر میں دنیا کی تاریخ
سورۃالعصر میں دنیاکی تاریخ موجود ہے ،جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام سے مجھ کو اطلاع دی اور یہ اصلی اور سچّی تاریخ ہے جس سے پتہ لگتاہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کس قدر زمانہ گذراہے ، پس اس حساب سے اب ساتویں ہزار سے کچھ سال گذر گئے ہیں اورخاتم الخلفاء پر چھٹے ہزار کے آخر میں پیداہو ا تاکہ اوّل رابآخر نسبتے داردکامصداق ہو ۔آدم بھی چھٹے دن پیداہوا تھااللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کا ہوتاہے اس چھ دن کے چھ ہزار ہوئے اور پھر آدم کی پیدائش چھٹے دن کے آخر میں ہوئی تھی اس لیے خاتم الخلفاء چھٹے ہزار کے آخر میں ہوااور ساتویں میں جنگ ہے ۔