کے لیے بھی جو علمی ترقی چاہتاہے ۔ اس کو چاہیے کے قرآن شریف کو غور سے پڑھیں۔ جہاں سمجھ میں نہ آئے دریافت کر لیں ۔ اگر بعض معارف سمجھ نہ سکے تو دوسروں سے دریافت کر کے فائدہ پہنچائے ۔۔
قرآن شریف ایک دینی سمندر ہے جس کی تہہ میں بڑے بڑے نایاب اور بے بہاگوہر موجود ہیں ۔ جب تم کسی عیسائی سے ملو گے ، تو دیکھوگے کہ اُن میںنقالوں اور ٹھٹھے والوںکی طرح دیانت اور مفقود نظر آئے گی ۔ یوںتو ان میںسے بعض ایسے ہیں جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم قرآن شریف کے ترجمہ سے واقف ہیں ۔ مگر انھوں نے تو مشق تو کی ہے ۔ لیکن ان میں روحانیت نہیں ہے اور اس کاہمیںبارہاتجربہ ہو ا ہے جب ان کو بلایا گیا،تواُنھوں نے گریزکی ہے ۔اگر واقعی ان کی معرفت اور علم یقین کے درجہ تک پہنچاہواہے تو پھر یاوجہ ہے کہ وہ گریز کرتے ہیں ۔
لاہور کے بشپ کافرار
دیکھو لاہور کے بشپ صاحب نے لاہور میں بڑے اہم مضامین پر لیکچر دئیے اور اپنی قرآن دانی اور حدیث دانی کے ثبوت کے لیے بڑ ی کوشش کی ،لیکن اُسے ہم نے دعوت کی تو باجود یکہ پاپونیر ؔنے بھی اس کو شرمندگی دلائی ، مگر وہ صرف یہ کہہ کر ہمارادشمن ہے مقابلہ سے بھاگ گیا ۔ ہم کو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بشب صاحب تو مسیح کی تعلیم کا کامل نمونہ ہو نا چاہیے تھا ۔ اور اپنے دشمنو ں کو پیار کرو پر ان کا پورا عمل ہو تا اگر میں ان کا دشمن بھی ہو تا : حا لانکہ میں سچ کہتا ہوں ۔حدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نو ع انسان کا سب سے بڑھ کر خیر خوا ہ اور دو ست میں ہوں ۔ ہا ں یہ سچ ہے کہ میں ان تعلیمات کا دشمن ہو ں جو انسان کی رو حا نی دشمن ہیں اور اس کی نجا ت کی دشمن ہیں ۔غرض بشپ صا حب کو کئی بار اخباروں نے اس معا ملہ میںشرمندہ کیا ، مگر وہ سامنے نہ آئے ۔ عیسائیوں کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو سادہ دیکھتے ہیں تو چھوٹا ہے تو بیٹا بنا کر اور بڑا ہے تو با پ بنا کر اندر دا خل ہو تے ہیں۔اور دیکھتے ہیںکہ وہ اگر حالات سے واقف ہے تو پھر اس سے بغض کرتے ہیں اس لیے کہ جب خدا سے تعلق توڑبیٹھتے ہیں تو مخلوق سے سچی ہمدردی کیونکر پیدا ہو ، مگر ہماری جماعت خاص ہے اس کو عام مسلمانوںکی طرح نہ سمجھیں ۔
دَ ا بۃالارض
یہ مسلمان دابۃالارض ہیں اور اس لیے اس کے مخالف ہیں جو آسمان سے آتاہے ۔ جو زمینی باتیں کرتاہے وہ دابۃالارض ہے خداتعالیٰ نے ایساہی فرمایا تھا ۔ رُوحانی اُمور کو وہی دریافت کرتے ہیں جن میںمناسبت ہو ۔چونکہ ان میں مناسبت نہ تھی اس لیے اُنھوں نے عصائے دین کو کھالیا ۔جیسے سیلمان ؑکے عصاکو کھالیا تھا ۔ اور اس سے آگے قرآن شریف میں لکھاہے کہ جب جنّوں کو یہ پتہ لگا اُنھوں نے سر کشی اختیار کی ہے ۔ اسی طرح پر جب عیسائی قوم نے جب اسلام کی یہ حالت دیکھی ۔یعنی اس دابۃالارض نے عصائے رَستی کو کمزور کردیاتو ان قوموںکو اس پر وار کرنے کاموقع دیدیا ،