میںنہیںگزرا۔ لیکن آپ کو بھی رب ذدنی علما(طہ: ۱۱۵) کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی ۔ اور پھر کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کہ ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے ، جوںجوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اُسے معلو م ہوتاجاوے گا کے ابھی بہت سی باتیںحل طلب باقی ہیں بعض امور کو ابتدائی نگاہ میں (اس بچے کی طرح جو اقلید س کی اشکال کو محض بیہودہ سمجھتاہے )بالکل بیہودہ سمجھتے ہیں ، لیکن آخروہی امور صداقت کی صورت میں ان کو نظر آئے اس لیے کس قدر ضروری ہے کے اپنی حیثت کو بدلنے کے ساتھ علم کو بڑھانے کے لیے ہر بات کو تکمیل کی جاوے ،تم نے بہت ہی بیہودہ باتوں کو چھوڑکر اس سلسہ کو قبول کیا ۔اگر تم اسکی بابت پُورا علم اوربصیرت حاصل نہ کرو گے ، تو اس سے تمھیں کیا فائدہ ہو اتمہارے یقین اور معرفت میں قوت کیونکر پیدا ہو گی ۔ذراذراسی بات پر شکوک وشبہات پیداہوں گے اور آخر قدم کو ڈگمگاجانے کا خطرہ ہے ۔ دین کو ہر حال میں دُنیا پر مقدم کرنا چاہیے دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، ایک تو وہ جو اسلام ؔ قبول کرکے دنیا کے کاروبا ر اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہے۔شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے ۔ نہیں صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے ، مگر وہ دین کو دنیاپر مقدم رکھتے تھے ، انہوں نے اسلام ؔقبول کیاتو اسلام کے متعلق سچاعلم جو یقین سے اُن کے دلوں کو لبریز کر دے ۔ انھوں حاصل کیا ، یہی وجہ تھی کے وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔کوئی امر اُن کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا ۔ میر امطلب اس سے صرف یہ ہے کہ جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہ وجاتے ہیں ۔ گویا دنیا کے پر ستار ہوجاتے ہیں ۔ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ او ر قابو پالیتا ہے ۔ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جودین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں ۔ یہ وہ گردوہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے ۔ اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے ۔ مال چونکہ تجارت سے بڑھتاہے ، اس لیے خداتعالیٰ نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا ۔چناچہ فرمایا ہے ۔ ہل ادلکم علے تجارۃتنجیکم من عذاب الیم (الصف:۱۱) سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے ، جو دردناک عذاب سے نجات دیتی ہے ،پس میں بھی خداتعالیٰ کے ان ہی الفاظمیںتمہیں یہ کہتاہو ں کہ ۔ ھل ادلکم علے تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم ۔ میںزیادہ اُمید ان پر کرتاہوں جو دینی ترقی اور شوق کو کم نہیں کرتے ۔ جواس شوق کو کم کرتے ہیں مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ شیطان ان پر قابو پالے ۔ اس لیے کبھی سست نہیںہونا چاہیے ۔ہر امر کو جو سمجھ میںنہ آئے پوچھناچاہیے تاکہ معرفت میں زیادت ہو ۔ پوچھناحرام نہیں بہ حیثیت انکار کے بھی پوچھناچاہیے اور عملی ترقی