صر ف اپنی جا ن پر ظلم کر تا ہے ۔ بلکہ اپنے بیوی بچو ں پر بھی ظلم کرتا ہے کیو نکہ جب وہ خو د تبا ہ ہو جا وے گا تو اس کے بیوی بچے بھی ہلا ک اور خوا ر ہوں گے ۔خداتعالیٰ اس کی طر ف اشا رہ کرکے فر ما تا ہے ولایخاف عقبھا(الشمس:۱۶) مرد چونکہ الرجال قوامون علی النساء (النساء :۳۵) کامصداق ہے ،اس لیے اگر وہ لعنت لیتاہے تو وہ لعنت بیوی بچّوںکو بھی دیتاہے اگر برکت پاتاہے تو ہمسائیوں اور شہروالوں تک بھی دیتاہے ۔اس وقت کل ملک میں طاعون کی آگ لگ رہی ہے ۔ وہ لوگ غلطی کررہے ہیں ، جو اس کو ملعون کہتے ہیں ،یہ خداتعالیٰ کاایک فرشتہ ہے جو اس وقت ایک خاص کام کے لیے مامور کیاگیا ہے۔اس کاعلاج خداتعالیٰ نے مجھے یہی بتایاہے ۔ ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیر واما بانفسہم (الرعد : ۱۲) یہ طاعون بدکاریوں اور فسق وفجور اور میرے انکار اورستہزاء کانتیجہ ہے اوریہ رک نہیںسکتا جب تک لوگ اپنے اعمال میں پاک تبدیلی نہ کریں اورسبّ شتم سے زبان کو نہ روکیں۔پھرفرماتاہے : انہ ادی القریۃ۔ اس گائوںکو پریشانی اورنتشار سے حفاظت میںلے لیا ۔کیا اس گائوںمیں ہر قسم کے لوگ چوہڑے ،چمار ،دہریہ ّاور شراب پینے والے اور بیچنے والے اور اور قسم کے لوگ نہیںرہتے ۔مگر خدانے میرے وجود کے باعث سارے گائوںکو اپنی تباہی میںلے لیا اور اس افراتفری اور موت الکلاب سے اُسے محفوظ رکھا جو دوسرے شہروںاور قصبوںمیں ہوتی ہے ۔غرض یہ خداتعالیٰ کے نشان ہیں ، ان کو عزت اورعبرت کی نگاہ سے دیکھو اور اپنی ساری قوتوںکو خداتعالیٰ کی مرضی کے نیچے استعمال کرو ۔ توبہ اور استغفار کرتے رہو خداتعالیٰ اپنا تم پر فضل کرے۔ ۲۸دسمبر ۱۹۰۱؁ء مُرشد اور ُمرید کے تعلقات مرشد اور مرید کے تعلقات استاد اور شاگرد کی مثال سے سمجھ لینے چاہئیں۔جیسے شاگرد استاد سے فائدہ اُٹھاتاہے ۔اسی طرح مرید اپنے مرشد سے لیکن اگر شاگرد اُستاد سے تعلق تو رکھے مگر اپنی تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھائے تو فائدہ نہیں اُٹھاسکتا ۔ یہی حال مرید کاہے پس اس سلسہ میںتعلق پیداکر کے اپنی معرفت اور علم ک وبڑھاناچاہئیے ۔طالب ِحق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز ٹھہرنا نہیں چاہئیے ، ورنہ شیطان لعین او رطرف لگا دے گا اور جیسے بند پانی میں عفونت پیداہو جاتی ہے ۔اس طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لیے سعی نہ کر ے ،تو وہ گر جاتاہے ، پس سعادت مند کا فرض ہے وہ طلب دین میںلگارہے ۔ ہمارے نبی کریم ﷺسے بڑھ کر کو ئی انسان کامل دنیا