کیا یہ انسانی طاقت میں ہے کہ اس طرح پر دو صدیوں کا صاحب ہو جاوے۔ ہندوئوں کی صدی بھٰ پائی اور عیسائیوں کی بھٰ۔ مفتی صاحب نے تو کوئی ۱۶ یا ۱۷ صدیاں جمع کر کے دکھائی تھیں۔ غرض ذوالقرنین کے معنے ہیں دو صدیاں پانے والا۔ اب خدا تعالیٰ نے اس کے لیے نین قوموں کا ذکر کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی قوم جو مغرب میں ہے اور آفتاب وہاں غروب ہوتا ہے اور وہ تاریکی کا چشمہ ہے۔ یہ عیسائیوں کی قوم ہے۔ جس کا آفتابِ صداقت غروب ہو گیا اور آسمانی حق اور نور ان کے پاس نہیں رہا۔ دوسری قوم اس کے مقابل میں وہ ہے جو آفتاب کے پاس ہے، مگر آفتاب سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔ یہ مسلمانوں کی قوم ہے، جن کے پاس آفتابِ صداقت قرآن شریف اس وقت موجود ہے۔ مگر دابتہ الارض نے اُن کو بے خبر بنادیا ہے ۔اور وہ اس سے اُن فوائد کو حاصل نہیں کر سکتے بجز جلنے اور دکھ اٹھانے کے جو ظاہر پرستی کی وجہ سے اُن پر آیا۔ پس یہ قوم اس طرح پر بے نصیب ہو گئی۔ اب ایک تیسری قوم ہے جس نو ذوالقرنین سے اِلتماس کی کہ یا جوج ماجوج کے درے بند کر دے تاکہ وہ اُن کے حملوں سے محفوظ ہو جاویں۔ وہ ہماری قوم ہے جس نے اخلاص اور صدق دل سے مجھے قبول کیا۔ خدا تعالیٰ کی تائیدات سے میں ان حملوں سے اپنی قوم کو محفو ظ کر رہا ہوں، جو یاجوج ماجوج کر رہے ہیں۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ تم کو تیار کر رہا ہے۔ تمہارا فرض ہے کہ سچی توبہ کرو اور پنی سچائی اور وفاداری سے خدا کو راضی کرو۔ تاکہ تمہارا آفتاب غروب نہ ہو اور تاریکی کے چشمہ کے پاس جانے والے نہ ٹھہرو اور نہ تم اُن لوگوں سے بنو جنہوں نے آفتاب سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا۔ پس تم پورا فائدہ حاصل کرو اور پاک چشمہ سے پانی پیو تا خدا تم پر رحم کرے۔ بد قسمت انسا ن وہ انسا ن بد قسمت ہو تا ہے جو خدا تعا لیٰ کے وعدو ں پر ایما ن لا کر وفا دا ر ی اور صبر کے سا تھ ان کا انتظا ر نہیں کر تا اور شیطا ن کے وعدو ں کو یقینی سمجھ بیٹھتا ہے، اس لیے کبھی بے دل نہ ہو جا ؤ اور تنگی اور عسر کی حا لت مین گھبراؤ نہیں خداتعالیٰ خود رزق کے معا ملہ میں فر ما تا ہے و فی السماء رزقکم وماتو عدو ن(الذار یا ت:۲۳) انسان جب خدا کو چھوڑتا ہے تو اپھر شیطا ن کا غلا م بن جاتا ہے ۔ وہ انسا ن بہت ہی بڑی ذمہ داری کے نیچے ہو تا ہے جو خدا تعالیٰ کی آیا ت اور نشانا ت کو دیکھ چکا ہو ۔پس کیا تم میں سے کو ئی ہے جو یہ کہے کہ میں نے کو ئی نشا ن نہیں دیکھا ۔ بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ لاکھوںکروڑوں انسان انکے گواہ ہیں ۔جو ان نشانو ں کی قدر نہیں کر تااور ان کو حقارت کی نگاہ سے د یکھتا ہے ،وہ اپنی جا ن پر ظلم کرتا ہے ۔خدا تعالیٰ اسکو دشمن سے پہلے ہلا ک کرے گا ۔کیو نکہ وہ شد ید العقاب بھی ہے جو اپنے آپ کو درست نہیں کرتا وہ نہ