کے سامنے غیرت کا چولہ اُتار کر آستانۂ ربوبیت پر نہ گر جاوے اور یہ عہد نہ کرلے کہ خواہ دنیا کی وجاگت جاتی رہے اور مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، تو بھی خدا کو نہیں چھوڑے گا اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہے گا۔ ابراہیم علیہ السلام کا یہی عظیم الشان اخلاص تھا کہ بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہو گیا۔ اسلام کا منشاء یہ ہے کہ بہت سے ابراہیمؑ بنائے۔ پس تم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ ابراہیم بنو۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ: ولی پرست نہ بنو۔ بلکہ ولی بنو اور پیر پرست نہ بنو۔ بلکہ پیر بنو تم اُن راہوں سے آئو۔ بیشک وہ تنگ راہیں ہیں۔ لیکن اُن سے داخل ہو کر راحت اور آرام ملتا ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اس دروازہ سے بالکل ہلکے ہو کر گزرنا پڑے گا۔ اگر بہت بڑی گٹھڑی سر پر ہو تو مشکل ہے۔ اگر گزرناچاہتے ہو تو اس گٹھڑی کو جو دنیا کے تعلقات اور دنیا کو دین پر مقدم کرنے کی گٹھڑی ہے، پھینک دو۔ ہماری جماعت خدا کو خوش کرنا چاہتی ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو پھینک دے۔تم یقینا یاد رکھو کہ اگر تم میں وفاداری اور اخلاص نہ ہو تو تم جھوٹے ٹھہرو گے۔ اور خدا تعالیٰ کے حضور راستباز نہیں بن سکتے۔ ایسی صورت میں دشمن سے پہلے وہ ہلاک ہو گا جو وفاداری کو چھوڑ کر غداری کی راہ اختیار کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ فریب نہیں کھاسکتا اور نہ کوئی اُس ے فریب دے سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تم سچا اخلاص اور صدق پیدا کرو۔ تم پر خدا تعالیٰ کی حجت سب سے بڑھ کر پوری ہوئی ہے۔ تم میں سے کوئی بھی نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا ہے۔ پس تم خدا تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہو، اس لیے ضروری ہے کہ تقویٰ اور خشیت تم میں سب سے زیادہ پیدا ہو۔ ذوالقرنین خدا تعالیٰ نے قراآن شریف میں مختلف طریقوں اور پہلوئوں سے اس سلسلہ کی حقانیت کو ثابت کیا ہے اور بتایا ہے یہانتک کہ ہر ایک قصہ میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے۔ مثلاً ذوالقرنین کا قصہ ہے اس میں اس کی پیشگوئی ہے۔ چنانچہ قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنیں مغرب کی طرف گیا تو اُسے آفتاب غروب ہوتا نظر آیا۔ یعنی تاریکی پائی اور ایک گدلاچشمہ اس نے دیکھا۔ وہاں پر ایک قوم تھی۔ پھر مشرق کی طرف چلتا ہے تو دیکھا کہ اسیک ایسی قوم ہے جو کسی اوٹ میں نہیں اور وہ دھوپ میں جلتی ہے۔ تیسری قوم ملی جس نے یاجوج ماجوج سے بچائو کی درخواست کی۔ اب یہ بظاہر تو قصہ ہے، لیکن حقیقت میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو اس زمانہ سے متعلق ہے۔ خدا تعالیٰ نے بعض حقائق تو کھول دیئے ہیں اور بعض مخفی رکھے ہیں۔ اس لیے کہ انسان اپنے قویٰ سے کام لے۔ اگر انسان نرے منقولات سے کام لے تو وہ انسان نہیں ہو سکتا۔ ذوالقرنین اس لیا نام رکھا کہ وہ دو صدیوں کو پائے گا۔ اب جس زمانہ میں خدا نے مجھے بھیجا ہے سب صدیوں کو بھی جمع کر دیا ہے