سے کرتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ہمیں علم نہیں ہے کہ بھیڑیا ہے ہمارے علم وہ ایک کتا ہے لیکن اگر یہ علم ہو کہ یہ بھیڑیا ہے توا س سے دور بھاگیں گے اور اسے بچنے کے لئے اچھی خاصی تیاری کریں گے لیکن اگر یہ علم اور بھی وسیع ہو جاوے کہ یہ شیر ہے تو بہت بڑا خطرہ پیدا ہو گا اور اس سے بچنے کے لئے اور بھی تیاری کریں گے غرض جمیع قوی پر ہیبت اور تاثیرکے علم سے ایک خاص اثر ہوتا ہے پس اب یہ کیسی صاف صداقت ہے کہ جس کو ہر شخص سوچ سکتا ہے کہ پھر گناہوں سے بچنے کے واسطے کیا راہ ہو سکتی ہے؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اور میں ایسی صداقت پر قائم کیا گیا ہوں اور یہی حق ہے کہ جب تک خدائے قہار کی معرفت تام نہ ہو اور اس کی قوتوں اور طاقتوں کی ایک شمشیر برہنہ نظر نہ آجاوے انسان بدی سے بچ نہیں سکتا ۔ بدی ایک ایسا ملکہ ہے جو انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے اور دل بے اختیار ہو ہو کر قابو سے نکل جاتا ہے خواہ کوئی یہ کہے کہ شیطان حملہ کرتا ہے کواہ کسی اور طرز پر اس کو بیان کیا جاوے یہ ماننا پڑے گا کہ آج کل بدی کا زور ہے شیطان اپنی حکومت اور سلطنت کو قائم کرنا چاہتا ہے بدکاری اور بے حیائی کے دریا کا بند ٹوٹ پڑا ہے اور وہ اطراف میں طوفانی رنگ میں جوش زن ہے پس کس قدر ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر مصیبت او رمشکل کے وقت انسان کا دستگیر ہوتا ہے اس وقت اسے ہر بلا سے نجات دے چنانچہ اس نے اپنے فضل سے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے دنیا نے اس سیلاب سے بچنے کے واسطے مختلف حیلے نکالے ہیںاور جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے عیسائیوں نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے بیان کرنے سے بھی شرم آتی ہے پھر اس کا علاج وہی ہے جو خدا نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے یعنی یہ کہ وہ مفید اور نفع رساں چیزوں کی طرف رغبت کرتا ہے او رمضر اور نعقصاں رساں چیزوں سے دور بھاگتا ہے دیکھو سونے او رچاندی کو اپنے لئے مفید سمجھتا ہے توا س کی طرف کیسی رغبت کرتا ہے اور کن کن محنتوں اور مشکلات سے بہم پہنچاتا ہے اور پھر کن حفاظتوں سے اسے رکھتا ہے لیکن اگر کوئی شخص سونے چاندی کو تو پھینک دے اور اس کی بجائے مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے اٹھا کر اپنے صندوقوں میں بند کر کے ان کی حفاظت کرنے لگے تو کیا ڈاکٹر اس کی دیوانگی کا فتوی نہ دیں گے ضرور دیں گے اسی طرح جب ہمیں یہ محسوس ہو جاوے کہ خدا ہے اور بدی سے نفرت کرتا ہے او رنیکی کو پیار کرتا ہے اورنیکیوں کو عزیز رکھتا ہے تو ہم دیوانہ وارنیکیوں کی طرف دوڑیں گے اور گناہ کی زندگی سے دور بھاگیں گے یہی ایک اصول ہے جو نیکی کی قوت کو طاقت بخشتا او ر نیکی کے قوی کو تحریک دیتا اور بدی کی قوتوں کو ہلاک کرتااور شیطان کی ذریت کو شکست دیتا ہے۔ جب واقعی طور پر اس آفتا ب کی طرح جو اس وقت دنیا پر چمکتا ہے ہے خدا پر ہمیں یقین حاصل ہو جاوے او رہم گویاخدا کو دیکھ لیں تو یقینا ہماری سفلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور اس کے بجائے ایک آسمانی