اواشد ذکرا (البقرہ : ۲۰۱)
یعنی اﷲ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو کہ جیسا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو، بلکہ اس سی بھی زیادہ اور مسخت درجہ کی محبت کے ساتھ یاد کرو۔ اب یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تعلیم نہیں دی کہ تم خدا کو باپ کہا کرو بلکہ اس لیے یہ سکھایا ہے کہ نصاریٰ کی طرح دھوکہ نہ لگے اور خدا کو باپ کر کے پکارا نہ جائے اور اگر کوئی کہے کہ پھر باپ سے کم درجہ کی مخبت ہوئی، تو اس اعتراض کے رفع کرنے کے لیے اواشد ذکرا رکھ دیا۔ اور اگر اواشدذکرا نہ ہوتا تو یہ اعتراض ہوسکتا تھا، مگر اب اس نے اُس کو حل کردیا۔ جو کہتے ہیں وہ کیسے گرے کہ ایک عاجز کو خدا کہہ اُٹھے۔
بعض الفاظ ابتلا کے لیے ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کو نصاریٰ کا انتلا منظور تھا۔اس لیے اُن کی کتابوں میں انبیاء کی یہ اصطلاح ٹھہر گئی، مگر چونکہ وہ حکیم اور علیم ہے اس لیے پہلے ہی سے لفظ اب کو کثیر الاستعمال کر دیا۔مگر نصاریٰ کی بدقسمتی کہ جب مسیح نے یہ لفظ بولا تو انہوں نے حقیقت پر حمل کر لیا اور دھوکا کھا لیاب حالانکہ مسیح نے یہ کہہ کہ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ تم الٰہ ہو اس شرک کو مٹانا چاہا، مگر نادانوں نے پروا نہ کی۔ اور اُن کی اس تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی اُن کو ابن اﷲ قرار دے ہی لیا۔
یہودیوں کو بھٰ اس قسم کا ابتلا آیا۔ چونکہ موذی قوم تھٰ۔ اُن کی درخواست پر منّ وسلویٰ نازل ہوا۔ کیونکہ یہ طاعون پیدا کرنے کا مقدّمہ تھا۔ اﷲ تعالیٰ چونکہ جانتا تھا کہ وہ حد سے نکل جائیں گے اور اُن کی سزا طاعون تھی۔ اس لیے پہلے سے وہ اسباب رکھ دیئے۔
میں پھر اصل مطلب کی طرف آتا ہوں کہ اصل توحید کو قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت سے پورا حصہ لو۔ اور یہ محبت ثابت نہیں ہوسکتی جبتک عملی حصہ میں کامل نہ ہو۔ نری زبان سے ثابت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی مصری کا نام لیتا رہے، تو کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ شیریں کام ہو جاوے یا اگر زبان سے کسی کی دوستی کا اعتراف اور اقرار کرے۔ مگر مصیبت اور دقت پڑنے پر اس کی امداد اور دستگیری سے پہلو تہی کرے، تو وہ دوست صادق نہیں ٹھہرسکتا۔ اسی طرح پر اگر خدا تعالیٰ کی توحید کا نرا زبانی ہی اقرار ہو اور اُس کے ساتھ محبت کا بھی زبانی ہی اقار موجود ہو تو کچھ فائدہ نہیں، بلکہ یہ حصہ زبانی اقرار کی بجائے عملی حصہ کو زیادہ چاہتا ہے۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ زبانی اقرار کوئی چیز نہیں ہے۔ نہیں۔ میرے غرض یہ ہے کہ زبانی اقرار کے ساتھ عملی تصدیق لازمی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خدا کی راہ میں اپنی زندگی وقف کرو۔ اور یہی اسلام ہے اور یہی وہ غرض ہے جس کے لیے مجھے بھیجا گیا ہے۔ پس جو اس وقت اس ثشمہ کے نزدیک نہیں آتا۔ جو خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لیے جاری کیا ہے وہ یقینا بے نصیب رہتا ہے۔اگر کچھ لینا ہے اور مقصد کو حاصل کرنا ہے تو طالب صادق کو چاہیے کہ وہ چشمہ کی طرف بڑھے اور آگے قدم رکھے اور اس چشمئہ جاری کے کنارے اپنا منہ رکھ دے اور یہ ہو نہیں سکتا جبتک خدا تعالیٰ