اس کی صداقت اور ثبوت کی ہر زمانہ میں دلیل ٹھہرتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت بھی خدا نے ان ثبوتوں اور برکات اور فیوض کو جاری کیا ہے اور مسیح موعود کو بھیج کر نبوتِ محمدیہ کا ثبوت آج بھی دیا ہے اور پھر اُس کی دعوت ایسی عام ہے کہ کل دنیا کے لیے ہے۔ قل یا ایھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا (ال اعراف : ۱۵۹) اور پھر فرمایا۔ وما ارسلنک الا رحمت للعالمین (الانبیاء : ۱۰۸) کتاب دی تو ایسی کامل اور ایسی محکم اور یقینی کہ لا ریب فیہ (البقرہ : ۳) اور فیھا کتب قیمۃ (البینۃ : ۴) اور ایات محکمت۔قول فصل۔میزان۔مھیمن۔ غرض ہر طرح سے کامل اور مکمل دین مسلمانوں کا ہے جس کے لیے الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمت ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ : ۴) کی مہر لگ چکی ہے۔ پھر کس قدر افسوس ہے مسلمانوں پر کہ وہ ایسا کامل دین جو رضاء الٰہی کا موجب اور باعث ہے رکھ کر بھی بے نصیب ہیں اور اس دین کے برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں لیتے بلکہ خدا تعالیٰ نے جو ایک سلسلہ ان برکات کو زندہ کرنے کے لیے قائم کیا تو اکثر انکار کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے اور لست مرسلا اور لست مؤ منا کی آوازیں بلند کرنے لگے۔ یاد رکھو خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار محض ان برکات کو جذب نہیں کر سکتا جو اس اقرار اور اُس کے دوسرے لوازمات یعنی اعمال صالحہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ توحید اعلیٰ درجہ کی جز ہے جو ایک سچے مسلمان اور ہر خدا ترس انسان کو اختیار کرنی چاہیے، مگر توحید کی تکمیل کے لیے ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ محبت الٰہی ہے یعنی خدا سے محبت کرنا۔ قراآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد اور مدّعایہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہٗ لا شریک ہے، ایسا ہی محبت کی رُو سے بھی اس کو وحدہٗ لا شریک یقین کیا جاوے اور کل انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا اصل منشاء ہمیشہ یہی رہے ہے؛ چنانچہ لاالہ الا اﷲ جیسے ایک طرف توحید کی تعلیم دیتا ہے ساتھ ہی توحید کی تکمیل محبت کی ہدایت بھی کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔ یہ ایک ایسا پیارا اور پر معنی جملہ ہے کہ اسد کی مانند ساری توراتؔ اور انجیل میں نہیں اور دنیا کی کسی اور کتاب نے کامل تعلیم دی ہے۔ الٰہ کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جاوے۔ گویا اسلام کی یہ اصل محبت کے مفہوم کو پورے اور کامل طور پر ادا کرتی ہے۔ یاد رکھو کہ جو توحید بِدُوں محبت کے ہو وہ ناقص اور ادُھوری ہے۔ محبتِ الٰہی اور اپنی جماعت کو نصائح خدا کے ساتھ محبت کرنے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ اپنے والدین۔جودو۔اپنی اولاد۔اپنے نفس۔غرض ہر چیز پر اﷲ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیا جاوے؛ چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے۔ فاذکرواﷲکذکرکم ابا ء کم