توحید
اپنے خدا کو وحدہٗ لا سریک سمجھو جیسا کہ اس شہادت کے ذریعہ تم اقرار کرتے ہو اشھد ان لاالہ الا اﷲ یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ کوئی محبوب مطلوب اور مطاع اﷲ کے سوا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا پیارا جملہ ہے کہ اگر یہ یہودیوں عیسائیوں یا دوسرے مشرک بُت پرستوں کو سکھایا جاتا اور وہ اس کو سمجھ لیتے، تو ہر گز ہرگز تباہ اور ہلاک نہ ہوتے اسی ایک کلمہ کے نہ ہونے کی وجہ سے اُن پر تباہی اور مصیبت آئی اور اُن کی روح مجزوم ہو کر ہلاک ہو گئی ؎ٰ۔
ایسا ہی فرمایا
قل ھواﷲ احد۔اﷲالصمد۔لم یلدولم یولد ولم یکن لہ کفوااحد۔(اخلاص : ۲تا۵)
یعنی کہہ دو کہ وہ خدا ایک ہے۔ ھو خدا کا نام ہے۔ وہ ایک ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔نہ کھانے پینے کی اس کو ضرورت نہ زمان یا مکان کی حاجت نہ کسی کا باپ نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر۔اور بے تغیر ہے۔ یہ چھوٹی سی سورت قرآن شریف کی ہے جو ایک سطرمیں آجاتی ہے، لیکن دیکھو کس خوبی اور عمدگی کے ساتھ ہر قسم کے شرک سے اﷲ تعالیٰ کی تنزیہہ کی گئی ہے۔
حصر عقلی میں شرک کے جس قدر قسم ہو سکتے ہیں اُن سے اُس کو پاک بیان کیا ہے۔ جو چیز آسمان اور زمین کے اندر ہے۔وہ ایک تغیر کے نیچے ہے، مگر خدا تعالیٰ نہیں ہے۔ اب یہ کیسی صاف اور ثابت شدہ صداقت ہے۔ دماغ اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ نورِ قلب جس کی شریعت دل میں ہے۔ اس پر شہادت دیتا ہے۔ قانونِ قدرت اسی کا مویّد ومصدّق ہے۔ یہنتک کہ ایک ایک پتہ اس پر گواہی دیتا ہے۔ پس اس کو شناخت کرنا ہی عظیم الشان بات ہے ۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ ثھوٹی سی سورت نازل کی یہ ایسی ہے کہ اگر توریت کے سارے دفتر کی بجائے اُس میں اسی قدر ہوتا تو یہود تباہ نہ ہوتے اور انجیل کے انتے بڑے مجموعہ کو چھوڑ کر اگر یہی تعلیم اُن کو دی جاتی تو آج دنیا کا ایک بڑا حصہ ایک مردہ پرست قوم نہ بن جاتا۔
مگر یہ خدا کا فضل ہے جو اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کو ملا اور اس فضل کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ جس پہلو سے دیکھو۔ مسلمانوں کو بہت بڑے فخر اور ناز کا موقع ہے۔ مسلمانوں کا خداپتھرؔ، درختؔ،حیوانؔ، ستارہؔ، یا کوئی مردہؔ انسان ہے، بلکہ وہ قادر مطلق خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے پیدا کیا اور حییّ وقیوم ہے۔
مسلمانوں کا رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی نبوت اور رسالت کا دامن قیامت تک دراز ہے۔ آپؐ کی رسالت مردہ رسالت نہیں، بلکہ اس کے ثمرات اور برکات تازہ بتازہ ہرزمانے میں پائے جاتے ہیں جو