ہے جبکہ کُل مذاہب میدان میں نکل آویں اور اشاعتِ مذہب کے ہر قسم کے مفید ذریعے پیدا ہو جائیں اور وہ زمانہ خدا کے فضل سے آگیا ہے؛ چنانچہ اس وقت پریس کی طاقت سے کتابوں کی اشاعت اور طبع میں جو جو سہولتیں میسر آئی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ ڈاکخانوں کے ذریعہ سے کل دنیا میں تبلیغ ہو سکتی ہے۔ اخباروں کے ذریعہ سے تمام دنیا کے حالات پر اطلاع ملتی ہے۔ ریلوں کے ذریعہ سفر آسان کر دئیے گئے ہیں۔ غرض جس قدر آئے دن نئی ایجادیں ہوتی جاتی ہیں اسی قدر عظمت کے ساتھ مسیح موعود کے زمانہ کی تصدیق ہوتی جاتی ہے اور اظہارِ دین کی صورتیں نکلتی آتی ہیں۔ اس لیے یہ وقت وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ لیظھرہ علی الدین کلہ کہہ کر فرمائی تھی۔ یہ وہی زمانہ ہے جو الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی(المائدہ : ۴) کی شان کو بلند کرنے والا اور تکمیل اشاعتِ ہدائت کی صورت میں دوبارہ اتمامِ تعمت کا زمانہ ہے اور پھر یہ وہی وقت اور جمعہ ہے جس میں واخرین منہم لما یلحقو ابھم (الجمعۃ : ۴)کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے۔ اس وقت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور بروزی رنگ میں ہوا ہے اور ایک جماعت صحابہ کی پھر قائم ہوئی ہے۔ اتمامِ نعمت کا وقت آپہنچا ہے۔ لیکن تھوڑے ہیں جو اس سے آگاہ ہیں اور بہت ہیں جو ہنسی کرتے اور ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں، مگر وہ وقت قریب ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق تجلی فرمائیگا اور اپنے زور آور حملوں سے دکھا دیگا کہ اس کا نزیر سچا ہے۔ ٔجماعت کو نصیحت میں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اﷲ تعالیٰ نے سعا دت مندوں کے لیے پییدا کردی ہے ۔ مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے۔ اس بات پر ہر گز ہر گز مغرور نہ ہو جائو کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے۔ یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تربہ سعادت ہو جنہوں نے اپنے شدید انکار اور توہین سے خدا کو ناراض کیا۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسنِ ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچا نے کی فکر کی۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمہ کے قریب آپہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے توفیق چاہو کہ وہ تمھیں سیراب کرے، کیونکہ خدا تعالیٰ کے بدوں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ میں یقینا جانتا ہوں کہ جو اس چشمہ سے پئے گا وہ ہلاک نہ ہوگا، کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے نچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔ اس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کیے ہیں اُن کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ ان میں سے ایک خدا کا حق ہے دوسرا مخلوق کا۔