قوتوں کو جب ان اغراض اور مقاصد میںصرف کرتاہے تو اس کو اپنے محبوبِ حقیقی
؎ٰ : الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ صفحہ ۵۔۶مورخہ ۱۰ مِئی ۱۹۰۲ء
ہی کا چہرہ نظر آتا ہے بہشت و دوزخ پر اس کی اصلاًنظرنہیں ہوتی میں کہتاہو ں کہ اگر مجھے ا س امر کایقین دلایا جاوے کے خداتعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جائے گی تو میں قسم کھاکر کہتا ہو ں میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے وہ ان تکلیفوں اور بلائو ں کو ایک لذّت اور محبت کے جو ش اور شوق کے ساتھ برادشت کرنے کوتیار ہے باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اوردکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خداکی اطاعت اورفرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لاانتہاموت سے بڑھ کر اور دکھوںاور مصائب کامجموعہ قراردیتی ہے ۔جیسے اگر کوئی بادشاہ عام علان کرائے کہ اگر کوئی ماںاپنے بچّے کو دودھ نہ دے گی ۔تو بادشا ہ اس سے خوش ہوکر انعام دیگا ۔توایک ماں کبھی گوارانہیں سکتی کہ وہ اس ا نعام کی خواہش اور لالچ میں اپنے بچّے کو ہلاک کرے ۔اسی طرح ایک سچّامسلمان خداکے حکم سے باہر ہونا اپنے لیے ہلاکت کا موجب سمجھتاہے ۔خود اس کو اس نافرمانی میں کتنی ہی آسائش اورآرا م کا وعدہ دیاجاوے۔
پس حقیقی مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس قسم کی فطرت حاصل کی جاوے کہ خداتعالیٰ کی محبت اوراطاعت کسی جزااورسزا کے خوف اور امید کی بناپر نہ ہو بلکہ فطرت کاطبی خاصہ اور جزو ہوکر ہو پھر وہ محبت بجائے خود اس کے لیے ایک بہشت پیداکردیتی ہے اور حقیقی بہشت یہی ہے ۔کوئی آدمی بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔جبتک وہ اس راہ کو اختیار نہیں کرتا ہے اس لیے میںتم کو جو میرے ساتھ تعلق ہو ۔اسی راہ سے داخل ہو نے کی تعلیم دیتا ہوں ۔ کیونکہ بہشت کی حقیقی راہ یہی ہے ۔
مہدی کا زمانہ ۔ ایک عظیم الشان جمعہ
خدا تعالیٰ نے جو اتمام نعمت کی ہے وہ یہی دین ہے ،جس کا نام اسلام ؔرکھا ہے ۔پھر نعمت میںجمعہ کا دن بھی ہے جس روز اتما مِ نعمت ہوا ۔یہ اس کی طرف اشارہ تھا کہ پھر اتمامِ نعمت جو
یظہرہ علے الدین کلہ(الصف:۱۰)
کی صورت میں ہو گا وہ بھی ایک عظیم الشان جمعہ ہو گا۔ وہ جمعہ اب آگیا ہے ۔کیو نکہ خدا تعا لیٰ نے وہ جمعہ مسیح موعو د کے سا تھ مخصو ص رکھا ہے اس لیے کہ اتما م ِ نعمت کی صو رتیں دراصل دو ہیں اول تکمیل ہدا یت ۔دوم تکمیل اشاعت ہدایت ۔اب تم غورکر کے دیکھو ۔تکمیل ہدایت تو آنحضرتﷺ کے زمانہ میںکامل طو ر پر ہو چکی ،لیکن اللہ تعا لیٰ نے مقدر کیا تھا کہ تکمیل اشاعت ہدا یت کا زمانہ دوسرا زمانہ ہو جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بروزی رنگ میں ظہو ر فرما دیںاور وہ زمانہ مسیح مو عو د اور مہدی کا زمانہ ہے ۔
Amira
یہی وجہ کہ لیظھرہ علی الدین کلہ (الصف : ۱۰) اس شان میں فرمایا گیا ہے۔تمام مفسرین نے بالا تفاق اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔ در حقیقت اظہارُ دین اسی وقت ہو سکتا