یہ بھی خداکاخاص فضل ہوتا ہے کہ اس طرز بیان سے نیکی کی قوت رکھنے والے اُس شخص کو جو خداکی قوت اور طاقت پاکر روح القدس سے بھر کر بولتا ہے شناخت کر لیتے ہیں ۔پس تم پر یہ خدا تعالیٰ کابہت بڑااحسان ہے اس نے تمہیں یہ قوت عطا کی اور شناخت کی آنکھ دی ۔اگر وہ یہ فضل نہ کرتا ،تو جیسے اور لوگ پردوں میں ہیں اورگالیاںدیتے ہیں ، تم بھی اُن میں ہوتے جس چیز نے تم کوکھینچاہے وہ محض خداکافضل ہے ، جیسے میاں عبدالحق ؔ ہی کو دیکھو کہ خداکافضل ہی ان کی دستگیری نہ کرتاتو یہ کیونکہ اس عیش کی جگہ سے نکل سکتے تھے خصوصاًا یسی حالت میںکہ ان کے پاس کئی ناصح بھی جمع ہوئے اور اُنھوں نے منع بھی کیا قادیان ؔ مت جائو ۔ بلکہ ایک نے گالی بھی دی ۔حلانکہ کہ گالی دینا ان کے مذہب میں منع ہے اور عام طور پر تہذیب اور شائستگی کے بھی خلاف ہے ،لیکن ان تمام باتوںپر خداکا فضل غالب آگیا اور اُن کو کھنیچ لایا ۔ اُن کو بدی کے اسباب ہی میسر نہ آئے،ورنہ اگر یہ بیوی کر لیتے تو پھر ابتلا پیش آجاتا ۔ مگرخدانے ہر طرح سے بچایاخد اتعالیٰ کا متحدث نہیں ہوتا ۔جس پر وہ اپنا کرم کرتاہے اُسے ہر طرح سے بچالیا ۔یہ خیال مت کرو کہ ہم مسلمان ہیں ۔اسلام بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو اور شکر کرو اور اس کے اند ر فلاسفی ہے جو زبان سے کہہ دینے سے نہیں حاصل ہوتی ۔ اسلام کی حقیقت ؔ اسلام اللہ تعالیٰ کے تمام تصّرفات کے نیچے آجانے کا نام ہے اور اس کاخلاصہ خداکی سچّی اور کامل اطاعت ہے ۔مسلمان وہ ہے جو اپناسارا وجود خداتعالیٰ کے حضور رکھ دیتا ہے بُدوں کسی امید پاداش کے۔ من اسلم وجہہ للّٰہ وہومحسن ( ٰالبقرہ ۱۳)۱؎ یعنی مسلمان وہ ہے جو اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے وقف کر دے اور سپرد کردے اور اعتقادی ؔ اور عملی طور پر اس کا مقصو داور غرض اللہ تعالیٰ کی ہی رضا اورخوشنودی ہو اورتمام نیکیاں اور اعمال ِحسنہ جو اس سے صادر ہوں وہ بمشقت اورمشکل کی راہ سے نہ ہوں بلکہ ان میں ایک لذّت اور حلاوت کی کشش ہو ۔جو ہر قسم کی تکلیف کو راحت اسے تبدیل کردے ۔ حقیقی مسلمان اللہ تعالی سے پیار کرتاہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب ومولا پیداکرنے والا اورمحسن ہے ۔ اس لیے اُس کے آستانہ پرسر رکھ دیتاہے ۔سچّے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میںکچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ اور نہ آرام ہیں اور نہ لذّات ہیں تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ اور محبت ِالہٰی کو ہر گزہرگز چھوڑنہیں سکتا ،کیونکہ اس کی عبادات اور خداتعالیٰ سے تعلق اور اُس کی فرمابرداری اور اطاعت میں فناکسی پاداش یااجر کی بناء اورا میدپر نہیںہے ۔بلکہ وہ اپنے وجود کو ایسی چیز سمجھتاہے کے وہ حقیقت میں خداتعالیٰ ہی کی شناخت اُس کی محبت اور اطاعت کے لیے بنائی گئی ہے اور کوئی غرض اور مقصد اُس کا ہے ہی نہیں اس لیے وہ اپنی خداداد