فرمایا: بخرام کہ وقت ِتونزدیک رسیدو پائے مُحمد یاں بَر منار بلند تر مُحکم اُفتاد لیکن ان ناعاقبت اندیش نادان دوستوں نے خداتعالیٰ کے سلسلہ کی قدر نہیں کی ۔بلکہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ یہ نور نہ چمکے یہ اس کو چھپانے کی کوشش ہیں ۔مگر وہ یاد رکھیں کے خداتعالیٰ وعدہ کر چکاہے ۔ واللہ متم نورہ و لوکرہ الکافرون (الصّف :۹ ) گالیوںکاجواب گالیوں سے نہ دیں یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں ،لیکن میں ان کی گالیوںکی پروا نہیں کرتا اور نہ اُن پر افسوس کرتاہوں ،کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فرد مائیگی کو بجز اس کینہیںچھپاسکتے کہ گالیاںدیں ،کفر کے فتوے لگائیں ،جھوٹے مقدمے بنائیں اور قسم قسم کے اِفتراء اور بہتان لگائیں ۔وہ اپنی ساری طاقتوںکو کام لاکرمیرامقابلہ کر لیں اور دیکھ لیںکے آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتاہے۔میںاگر ان کی گالیو ںکی اگر پرواکروںتو وہ اصل کام جو خداتعالیٰ نے میرے سپرد کیاہے رہ جاتاہے ،اس لیے جہاںمیںان کی گالیوںکی پروا نہیںکرتا۔میںاپنی جماعت کو نصیحت کرتاہوں کے اُن کو مناسب ہے کے اُن کی گالیاںسُن کر برداشت کریں ۔اور ہر گزہر گز گالی کاجواب گالی سے نہ دو ، کیونکہ اسطرح پر برکت جاتی رہتی ہے وہ صبر اور بر دا شت کا نمو نہ ظا ہر کر یں اور اپنے اخلا ق دکھا یں ۔ یقینا یاد رکھو کہ عقل اور جو ش میں خطر نا ک د شمنی ہے جب جوش اور غصہ آ تا ہے ، تو عقل قا ئم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبرکر تاہے اوربرد باری کا نمو نہ دکھا تا ہے اس کو ایک نور دیا جا تا ہے جس سے اس کی عقل وفکر کی قو تو ں میں ایک نئی رو شنی پیدا ہو جا تی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے غصہ اور جوش کی حا لت میں چو نکہ د ل و دما غ تاریک ہوتے ہیں ۔ اسلیے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہو تی ہے۔ اسلا م کی قدر کرو میں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے کہتا ہو ں کہ اسلا م کی جو حالت اس وقت ہو رہی ہے اور یہ مختلف فرقہ بند یاں جو آئے دن ہوتی رہتی ہیں اور مخالف اس پر دلیر ہو رہے ہیں اور بیبا کی سے حملے اور اعترا ض کرتے ہیں یہ سب اسی دابتہ الارض کا فسا د ہے ۔انھو ںنے ہی عیسائیوں کو مد د دی ہے مگر اب خداکا شکر کرو کہ اس نے عین وقت پر دستگیر ی فرمائی ہے ۔اوراس سلسلہ کو قائم کیا ہے ۔اس لیے تم کو منا سب ہے کہ اس فضلکو جو تم کو دیا گیا ہے ۔ضائع نہ کرو اور ادب کی نگاہ سے دیکھو اور اس مد د اور نصرت کی جو تمھیں دی گئی ہے قدر کرو ۔یقینا یاد رکھو کہ خدا کی مد د بدوں اور اس کے بلائے بغیر کوئی شخص راستی سے اور پو ری قو ت سے ایک امر کو بیا ن نہیںکر سکتا ۔بغیراس کے دلا ئل ملتے ہی نہیں اور طرز بیا ن نہیں دیا جا تا اور