صفات سے مُتّصف قرار دیتے ہیں ۔جبکہ اُن کو مُحی اور شافی ۔عالم الغیب ۔غیر متغیر وغیرہ مانتے ہیں اور ایساہی اسلام ؔپر یہ جھوٹاالزام لگاتے ہیں کہ وہ تلوار کہ بدوںنہیںپھیلا۔بھوپال کے ایک مُلّابشیر نے مجھے دّجال کہا ،حالانکہ یہ لوگ خود دّجال ہیںجو مجھے کہتے ہیں۔کیونکہ وہ حق کو چھپاتے ہیں اور اسلام کو بد نام کرتے ہیں ۔غرض عصائے اسلام جس کے ساتھ اسلام کی شوکت اور رعب تھا اورجس کے ساتھ اَمن اور سلامتی تھی اس دابتہ الارض نے گرادیا ۔ پس جیسے وہ دابتہ الا ر ض تھا ۔یہ اس سے بد تر ہیں۔۱؎ اس سے تو صرف ملک میں فتنہ پڑاتھا مگران سے دین میںفسا د پیدا ہوا اور ایک لا کھ سے زائد لو گ مر تد ہو گئے ۔ایک وہ وقت تھا کہ ایک مرتد ہو جا تا ، اتو گو یا قیا مت آجا تی تھی یا اب یہ حا ل ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ مرتدہوگیااور کسی کو خیال بھی نہیںکہ کئی کروڑ کتابیں اسلام کہ خلاف نبی کریم ﷺکی توہین اور ہجو میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن کسی کو خبر تک بھی نہیں کہ کیا ہو رہاہے اپنے عیش وعشرت میں مشغول ہیں او ردین کو ایک ایسی چیز قراردے دیاہے جس کانام بھی مہذّب سو سائٹی میں لیاجاناگناہ سمجھا جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام پرجو اعتراض طبعی فلسفہ کے رنگ میں کیے جاتے ہیں اُن کاجواب یہ لوگ نہیں دے سکتے اور کچھ بھی بتانہیں سکتے ،حالانکہ اسلام پر جو اعتراض عیسائی کرتے ہیں ۔وہ خود ان کے اپنے مذہب پر ہوتے ہوتے ہیں سب سے بڑااعتراض جہاد پر کیا جاتاہے ۔لیکن جب غور کیا جاوے تو صاف معلوم ہو جاتاہے کہ یہ اعتراض خودعیسائیوںکے مسلّمات پر پڑتے ہیں۔اسلام نے جہاد کو اُٹھایا اسلام پر اعتراض نہیں ۔ ہاںوہ اپنے گھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لڑائیو ں کاکوئی جواب نہیںدے سکتے اور خود عیسائیوںجو مذہبی لڑائیاں ہوتی ہیں ایک فرقہ نے دوسرے فرقہ کو قتل کیا ۔ آگ میںجلایا اوردوسری قوموں پر جوظلم وستم کیا ۔جیساکہ سپین میں ہو ا۔اس کا کوئی جواب ان عیسائیوںکہ پاس نہیںہے اور قیامت تک یہ اس کا جواب نہیںدے سکتے ۔ یہ بات بہت درست ہے کہ اسلام اپنی ذات میں کامل ہے ،بے عیب اورپاک مذہب ہے ۔لیکن نادان دوست اچھّانہیںہوتا ۔اس دابتہ الارض نے نادان دوست بن کر اسلام کو جو صدمہ اورنقصان پنہچایاہے ۔اس کی تلافی بہت ہی مشکل ہے ،لیکن اب خداتعالیٰ نے ارادہ فرمایاہے کے اسلام کا نور ظاہر ہوااور دنیاکو معلوم ہوجاوے کہ سچّااورکامل مذہب جو انسان کی نجات کامتکفّل ہے ۔ وہ صرف اسلام ہے اس لیے خداتعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے