ہونے کا وقت آپہنچا کہ مسیح موعود صلیب کو توڑے گا۔ اس سے یہ مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ تھی کہ وہ صلیبیں توڑتا پھرے گا۔ کیونکہ اگر صلیب توڑنے ہی سے کوئی مسیح موعود ہو سکتا ہے تو پھر صلاحؔالدین اور حضرت عمر ؓ کے وقت میں بہت سی صلیبیں توڑی گئی تھیں۔ علاوہ بریں صلیب کے اس طرح پر توڑنے سے کچھ فائدہ نہیں۔ اگر ایک لکڑی کی صلیب توڑی جاوے تو دس اور بن سکتی ہیں۔ چاندی سونے کی بن جاتی ہیں۔ مگر نہیں اﷲ تعالیٰ نے مسیح موعود کے لیے جو کسر صلیب مقرر کیا، تو اس سے یہ ہر گز مراد نہیں تھی کہ ان صلیبوں کو توڑتا پھرے گا۔ کیونکہ اس سے ظالم ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ پس جو لوگ یہ اعتقاد کرتے ہیں، وہ دین کو بدنام کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو اس جسمانی جنگ سے بَری رکھا ہے اور اس کے لیے یہ مقرر کیا کہ یضع الحرب تا کہ اس دودھ میں مکھی نہ پڑ جاوے۔ مسیح موعود دنیا میں آیا تاکہ دین کے نام سے تلوار اُٹھانے کے خیال کو دور کرے اور اپنی جج اور براہین سے ثابت کر دکھئے کہ اسلامؔ ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشاعت میں تلوار کی مدد کا ہر گز مہتاج نہیں۔بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اُس کے حقائق و معارف و جج و براہین اور خدا تعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہوئی ہیں۔ اس لیے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلامؔ کے بزورِ شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لیے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں۔ اگر کسی کوشک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلامؔ اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔ مسیح مودعو د دنیا میں آیا تا کہ دینکے نام سے تلوا ر اٹھا نے خیا ل کو دو ر کر ے اور اپنی حجج اور برا ہین سے ثابت کر د کھا ئے کہ اسلا م ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشا عت میں تلوار کی مد د کا ہر گز محتا ج نہیں ۔ بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اُس کے حقائق اور معارف و حجج و برا ہین اور خدا تعالیٰ کی زند ہ تائیدات اور نشانات اور اس کاذاتی جذب ایسی ہی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہو ئی ہیں اس لیے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام ؔکے بزدر ِشمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں ۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کی لیے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں ۔اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کردیکھ لے کہ اسلام ؔاپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتاہے ۔ اب خداتعالیٰ چاہتاہے اور اس نے ارادہ فرمایاہے ان تمام اعتراضوں کو اسلام کے پاک وجود سے دور کردے جو خبیث آدمیوں نے اس پر کئے ہیں ۔تلوار کے ذریعے اسلام کی اشاعت کا اعتراض کرنے والے اب سخت شرمندہ ہوںگے ۔یہ کہنا کہ سرحدی غازی آئے دن فساد کرتے ہیں ۔جہاد کے خیال سے یہ ایک بیہودہ بات ہے اوران مفسدوںکو غازی کہناسراسرنادانی اور جہالت ہے ۔ اگر کوئی جاہل مسلمان اُن کے ساتھ ذرا بھی ہمدردی رکھتاہے اس خیال سے کہ وہ جہاد کرتے ہیں ۔میںسچّ کہتاہوں کہ وہ اسلام کا دشمن ہے جو مفسد کانام غازی رکھتا ہے اوراسلام کے بدنام کرنے والوں کی تعریف کرتاہے ۔ یہودیوںکے لیے خدانے جومسیح پیداکیا تھا اُس کی غرض بھی یہی تھی کہ یہودیوں کی اس آلائش کو دھوڈالاجائے جو جبر کے ساتھ اشاعت ِمذہب کو اُن سے منسوب کی گئی ۔اس طرح پر چودھویںصدی میں جو مسیح موعود خدااسلام کو دیا ہے، اس کی غرض اور مقصود بھی یہی ہے کہ اسلام کو اس عتراض سے صاف کرے کے اسلام کو جبر کے ساتھ پھیلایا گیا ہے ، اس لیے اس کا پہلا کام یہی ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے گا ۔