الوہیّت مسیح
معجزات کا تو یہ حال ہے، پیشگوئیوں کا یہ حال ہے کہ ایسی پیشگوئیاں ہر مدّبر شخص تو درکنار عام لوگ بھی کر سکتے ہیں کہ لڑائیاں ہوںگی۔قحط پڑیں گے۔ مرغ بانگ دے گا۔ ان پیشگوئیوں پر نظر کرو تو بے اختیار ہنسی آتی ہے۔ ان کو یہودی خدائی کا ثبوت کب تسلیم کرسکتے تھے۔ خدائی کے لیے تووہ جبروت اور جلال چاہیے جو خدا کے حسب حال ہے۔ لیکن یسوع اپنی عاجزی اور ناتوانی میں ضرب المثل ہے۔ یہنتک کہ ووائی پرندوں اور لومڑیوں سے بھی ادنیٰ درجہ پر اپنے آپ کو رکھتا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ کس بناء پر اس کی خدائی تسلیم کی جاوے۔ کس کس بات کو پیش کیا جاوے۔ ایک صلیب ہی ایسی چیز ہے جو ساری خدائی اور نبوت پر پابی پھیردیتی ہے کہ جب مصلوب ہو کر ملعون ہو گیا تو کاذب ہونے میں کیا ماقی رہا۔ یہودی مجبور تھے۔ ان کی کتابوں میں کاذب کا یہ نشان تھا۔ اب وہ صادق کیونکر تسلیم کرتے؟ جو خود خدا سے دور ہو گیا وہ اوروں کے گناہ کیا اٹھائے گا۔ عیسائیوں کی اس خوش اعتقادی پر سخت افسوس آتا ہے کہ جب دل ہی ناپاک ہو گیا تو اور کیا باقی رہا۔ وہ دوسروں کو کیا بچائیگا ۔اگر کچھ بھی شرم ہوتی اور عقل و فکر سے کام لیتے تو مصلوب اور ملعون کے عقیدے کو پیش کرتے ہوئے یسوع کی خدائی کا اقرار کرنے سے اُن کو موت آجاتی۔ اب کسرِصلیب کے سامان کثرت سے پیدا ہو گئے ہیں اور عیسائی مذہب کا باطل ہونا ایک بدیہی مسئلہ ہو گیا ہے۔ جس طرح پر چور پکڑا جاتا ہے تو اوّل اوّل وہ کوئی اقرار نہیں کرتا اور پتہ نہیں دیتا مگر جب پولیس کی تفتیش کامل ہو جاتی ہے تو پھر ساتھی بھی نکل آتے ہیں اور عورتوں بچوھ کی شہادت بھی کافی ہو جاتی ہے۔ کچھ کچھ مال بھی بر آمد ہو جاتا ہے۔ تو پھر اس کو باحیائی سے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہاں میں نے چوری کی ہے۔ اسی طرح پر عیسائی مذہب کا حال ہوا ہے۔ صلیب پر مرنا یسوع کو کاذب ٹھہراتا ہے۔ لعنت دل کو گندہ کرتی اور خدا سے قطع تعلق کرتی ہے۔ اور اپنا قول کہ یونسؑ کے معجزہ کے سوا اور کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا۔ باقی معجزات کو رد کرتا اور صلیب پر مرنے سے بچنے کو معجزہ ٹھہراتا ہے۔ عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ انجیل میں کچھ حصہ الحاقی بھی ہے۔ یہ ساری باتیں مل ملا کر اس بات کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہیں جو یسوع کی خدائی کی دیوار کو جو ریت پر بنائی گئے تھی بالکل خاک سے ملا دیںاور سرینگر میں اس کی قبر نے صلیب کو بالکل توڑ ڈالا۔ مرہم عیسیٰ اس کے لیے بطور شاہد ہو گئی۔ غرض یہ ساری باتیں جب ایک خوبصورت ترتیب کے ساتھ ایک دانشمند سلیم الفطرت انسان کے سامنے پیش کی جاویں، تو اُسے صاف اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مسیحؑ صلیب پر نہیں مرا۔ اس لیا کفّارہ جو عیسائیت کا اصل الاصول ہے، مالکل ماطل ہے۔
مسیح موعود کی بعثت کی غرض
پس یاد رکھو کہ یہ وہ حقائق ہیں جو اس وقت خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مسیح موعودؑ پر کھولے ہیں۔ میں پکار کر کہتا ہوں کہ اب خدا کا وقت آگیا ہے۔ جو کچھ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا تھا۔ اُس کے پورا