ہے کیونکہ یہ صرف مشق پر موقوف ہے اور ہر شخص جو مشق کرے خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، عیسائی ہو یا دہریہ غرض کوئی بھی ہو وہ مشق کرنے سے اس میں مہارت پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیا اس سلب امراض کو نبوت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عام بات ہے تو حضرت مسیح کے وقت میں چونکہ اس کا زور تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے اسی رنگ کا معجزہ حضرت مسیح کو دے دیا۔ یہ خاصیّت ہر انسان میں موجود ہے کہ وہ توجہ کرتا ہے۔توجہ کرنے کے ساتھ ایک چیز اُس کے دل سے اُٹھ کر پڑتی ہے؛ چنانچہ مسیح نے کہا۔ کس نے مجھے چھوا ہے کہ میری قوت نکلی ہے۔ سلب امراض والے بھی یہی کہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ مسیح کے معجزات اس رنگ میں آکر بہت ہی کمزور اور ضعیف ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسیح کے معجزات پر ایک اور بڑا اعتراض بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انجیل میں لکھا ہے کہ ایک تالاب ایسا تھا کہ لوگ اس کے پانی کے ہلنے کاانتظار کیا کرتے تھے ؎ٰ۔ اور وہ مانتے تھے کہ اس کو فرشتہ ہلاتا ہے۔ پس جو سب سے پہلے اس میں اُتر پڑتا۔ وہ اچھا جو جاتا تھا اور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ مسیح اس تالاب پر اکثر جایا کرتے تھے۔ پھر کیا تعجّب ہے کہ مسیح نے بیماروں کے علاج کا کوئی نسخہ اس تالاب کی مٹی وغیرہ سے ہی تیار کیا ہو۔ تالا ب کے اس قصہ نے جو اناجیل میں درج ہے۔ مسیحی معجزات کی حقیقت کو اور بھی مشتبہ کر دیا ہے اور ساری رونق کو دور کر دیا ہے۔ اسی لیے عمادالدینؔ جیسے عیسائیوں کو ماننا پڑا ہے کہ تالاب والا قصہ الحاقی ہے۔ لیکن انجیل کے ان نادان دوستوں نے اتنا خیال نہیں کیا کہ اس باب کو محض الحاقی کہہ دینے سے مسیحی معجزات کی گئی ہوئی رونق نہیں آسکتی۔ بلکہ انجیل کو اور بھی مشتبہ قرار دینا ہے۔ کیونکہ پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ جس انجیل میں ایک باب الحاقی ہو اور حصہ اُس کا الحاقی نہ ہو اور جبکہ نسب نامہ کو الحاقی کہنے والے بھی موجود ہیں۔ پھر اس تالاب جیسے چشمے اور ملکوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یورپ کے اکثر ممالک میں ایسے چشمے ہیں جہاں جا کر اکثر مریض شفا پاتے ہیں۔ کشمیر میں بھی بعض چشموں کا پانی ایسا ہی ہے جن میں گندھک کا پانی اور نمک اور اَور اس قسم کے اجزاء ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس وہ معجزہ نما تالاب مسیح کے سارے معجزات پر پانی پھیرتا ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ مسیح کا اس تالاب پر جانا اور اس کی مٹی کا آنکھوں پر لگانا اور اپنے پاس رکھنا بھی بیان کیا جاتا ہے اور پھر عمادالدین اُسے الحاقی مانتا ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک حصہ الحاقی مان کر پھر آسمانی کہتے ہوئے اُسے شرم نہیں آتی۔ مسیح کی لکھی ہوئی انجیل نہیں۔ حواریوں کی زبان عبرانی میں نہیں۔ تیسری مصیبت یہ ہے کہ الحاقی بھی ہے اور پھر آخر یہ کہ تعلیم اُدھوری اور باقص اور نا معقول ہے اور اُسے پیش کیا جاتا ہے کہ نجات کا اصلی ذریعہ یہی ہے۔