ہوتا اور دوسری طرف کہہ دے کہ زندہ ہو جاتا ہے ۔ اگر مسیح سچ مچ مُردہ زندہ کرتاتھا تو قرآن شریف ضرور اس کی نسبت فرماتایحی المتوفی کیونکہ توفی کالفظ وہاں آتاہے جہاں روح ہو ۔ موت تو اس سے پہلے بھی آسکتی ہے ۔اور توفی کالفظ اس لیے بھی استعمال کیاجاتاہے تاکہ یہ ثابت کیاجاوے کے مرنے کے بعد بھی روح باقی رہتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں آجاتی ہے کس قدر حیرت اور افسوس کی جگہ ہے کہ معجزات مسیح پر بحث کرتے ہوئے لوگ پوری توجہ نہیں کرتے ۔قرآن کریم پڑھ لیتے اور سنت رسول اللہ پر نظر کرتے تو یہ مسئلہ سمجھ آجانا کچھ بھی مشکل نہ تھا ۔ انبیاء کے معجزات زمانہ مناسب حال ہوتے ہیں صحیح تاریخ ایک عہدہ معلم ہے اس سے پتہ لگتاہے ہر نبی کے معجزات اس رنگ کے ہوتے ہیں ،جس کا چرچااور زور اُس کے وقت میں ہو ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سحر کا بہت بڑازور تھا۔ اس لیے ان کو جو معجزادیاگیاوہ ایساتھاکے اس نے اُن کے سحر کو باطل کر دیااور ہمارے نبی کریم کے وقت میں فصاحت وبلاغت کازور تھا اس لیے آپؐکو قرآن کاکریم کاایک معجزہ اسی رنگ کا ملا ۔یہ رنگ اسی لئے اختیار کیا کہ شعر اء جادو بیان سمجھے جا تے تھے اور ان زبان میں اتنا اثر تھ ا کہ وہ جو چاہتے تھے چند شعر پڑھ کر کرا لیتے تھے ۔جیسے آج کل جو دلیری اور حوصلہ پیدا کر دیتی تھی ۔ہر حربہ میں وہ شعر سے کام لیتے تھے اور فی کل واد یہیمون( الشعراء:۲۲۶)کے مصداق تھے۔اس لیے اُس وقت ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ اپنا کلام بھیجتا۔ پس خدا تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا اور اسی کلام کے رنگ میں اپنا معجزہ پیش کر دیا۔ جبکہ اُن کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ انکنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبد نا فاتوابسورۃ من مثلہ…(البقرہ : ۲۴) تم جو اپنی زباندانی کا دم مارتے اور لاف زنی کرتے ہو اگر کوئی قوت اور حوصلہ ہے تو اس کلام کے معجزہ کے مقابل کچھ پیش کر کے دکھائو، لیکن باوجود اس کے کہ وُہ جانتے تھے کہ اگر کچھ نہ بنایا (خصوصاً ایسی حالت میں کہ جب تحدّی کر دی گئی ہے کہ تم ہر گز ہر گز بنا نا سکوگے) تو مُلزم ہو کر ذلیل ہو جائیں گے۔ پھر بھی وہ کچھ پیش نہ کر سکے۔ اگر وہ کچھ بناتے اور پیش کرتے تو صحیح تاریخ ضرور شہادت دیتی، مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی نے کچھ بنایا ہو۔ پس خدا تعالیٰ نے اُس وقت اُسی رنگ کا معجزہ دکھایا تھا۔ سلبِ امراض کا معجزہ ایسا ہی یہودیوں میں سلبِ امراض کا نسخہ چلا آتا تھا۔ ہندوئوں میں بھی ہے۔ مسلماتوں میں بھی ہے۔ عیسائیوں میں بھی ہے۔ بلکہ انگریزوں میں تو آجکل یہ علم بہت ترقی کر گیا ہے۔ اس سے نبوّت کا ثبوت نہیں ہوتا اور نہ نبوّت سے اس کا کوئی تعلّق