انگریزی گورنمٹ کے عہدمیں مذہبی آزادی
ابھی سکھوں کازمانہ گزرہ ہے جس میں شائستگی بالکل جاتی رہی ۔عالم باعمل نہ رہے تھے ۔اگر کسی کو شبہات پڑتے اور وہ کوئی سوال کرتا ۔تواس کو واجب القتل کاہونے کافتویٰ دیاگیا ۔یہ زمانہ ایساہی ہو گیا تھا ۔مگر اب خداتعالیٰ نے فضل کیا۔ایک مہذّب اورشائستہ علم دوست گورنمٹ کو ہم پر حکمران کیا جس نے عدل اور انصاف کے ساتھ حکومت کرنا چاہی ہے اور مذہبی آزادی کی برکت سے ساری قوموں کو مستفیدکیا ۔ اب وہ وقت آگیا ہے کے مذہب کے متعلق سوال کرنے والوں سے کوئی سختی نہیں کی جاتی اور ہر ایک سائل کو جواب دیاجاتاہے۔
مسیح موُعودؑکی بعثت کی غرض
جب زمانہ نے اس قسم کی ترقی کی اور اشاعت کے سارے سامان اور ذریعے پیدا ہوگئے ۔تو اللہ تعالیٰ نے اسلام ؔکو کل اُمتوں پرغالب کرنے کے لیے مجھے مامور کر کے بھیجا ۔
حقیقیی محی اموات صلی اللہ علیہ وسلم
رسول اللہ ﷺکو جب دنیا میں بھیجا تھا ، اس وقت کل تَری خشکی فساد سے بھر چکی تھی ۔آپؐ نے آکر بہت سے بگڑے ہوئوں کو بنادیا ۔ یہ بات سَر سَری نگاہ کے دیکھے جانے کے قابل نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں بڑے بڑے حقائق ہیں ۔ او رنبی کریم ﷺکی عظمت اور بزرگی کا پتہ لگتاہے کیونکہ بجز اعلی درجہ کے مقدس راستباز کے کوئی دوسرے کو درست نہیں کر سکتا جس کی اپنی قوت قدسی کمال کے درجہ پر نہ پنہچی وہ ایسی قوت اس میںپیدانہ ہو چکی ہو ۔ جو ساری ناپاکیوں کے اثر کو زائل کر دے وہ دوسروں کو درست نہیں کر سکتا۔ یو ں تو ہر ایک نبی نے اپنے اپنے وقت میں اپنی قوم کی اصلاح کی اور اس کو درست کیا ۔مگر جس شان اور مرتبہ کی اصلاح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے ۔اس کو کسی اور کی اصلاح نہیں پنہچ سکتی ۔بلکہ اس کے مقابل دوسری اصلاحیں ہیچ نظر آتی ہیں ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی ٹیڑھی قوم کو پورے طور سے درست نہ کر سکے اور حضرت مسیح چند حواریوں کی سچّی تبدیلی نہ کر سکے ۔ اس لیے جب اس مقابلہ میں نبی کریم ﷺکو تو صاف اقرار کرنا پڑتاہے کہ ایک ہی ہے جس نے لاکھوں کڑوڑوں مُردوں کو زندہ کیا ۔ محی اگر ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے ۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مسیح مردے زندہ کیا کرتا تھا ۔جس نے اپنے چند حواری بھی زندہ نہ کیے ان کے پاس ہمیشہ مردے ہی رہے ۔میں ہمیشہ حیران ہوا کرتا ہوں اور حقیقت میں یہ حیران ہونے کی بات ہے کہ وہ حیات کیسی ہے جس کے ساتھ فنا لگی ہوئی ہے ۔یہ مسئلہ ہی غلط ہے جو کہے کہ فلاں شخص زندہ کرتا ہے ۔اگر زندہ کرنے کا مفہوم اور مطلب نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کیوں فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضَیْ عَلَیْہَا الْمَوْ تَ(الزّمر: ۴۳ )فرماتا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ محاورہ ہی ہے ، ورنہ اس سے تو تنا قض لازم آتا ہے کہ ایک طرف کہے کہ زندہ نہیں