کے اعتراضوں کو سرِدست چھوڑدیتے ہیں لیکن جو تین بڑے اعتراض اوپر کیے گے ہیں اُن کاجواب عیسائیوں کہ پاس حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے ۔
اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مریم کو ہیکل میں پیٹ ہوگیاتھااور مریم نے یہ سمجھاتھاکہ لوگوںکو اگر بتایاگیاکہ مجھے فرشتہ نے آکر بیٹا پیداہونے کی ہونے کی بشارت دی ہے ،تو لوگ ٹھٹھا کریںگئے اورکہیں گئے کے اس کو بیاہ کے خواب آتے ہیں ۔کوئی بدکار ٹھہرائے گا۔لیکن جب پیٹ چھپ نہ سکا اورچرچاہونے لگا تو آخر سب کو فکر پڑی ۔اگر پہلے سے بتادیتی جب فرشتے نے آکر کہاتھا ،تو شاید اس قدر شور نہ ہو تا ۔لیکن اُنھوں نے یہی سمجھاکہ اس وقت اگر بتایاتویہی کہیں گئے کہ خاوندمانگتی ہے کیونکہ یہ قاعدہ ہے اگر کنواری لڑکی ذراسابھی کوئی ذکر کر بیٹھے تو لوگ اس کی نسبت یہی نتیجہ نکال لیتے ہے۔پس وہ ڈرتی ہی رہی اوریہی اس نے سوچاکے خاموش رہوں ،لیکن جب چار پانچ مہینے کے بعد جب پیٹ بڑھااورپردہ نہ رہ سکا ۔ تو پھر رہانہ گیا ۔تو ہیکل کے بزرگوں کو بخوبی معلوم ہو گیا کے مریم حاملہ ہے اور انہیں فکر پیداہوئی اور جیسا کے یہ دیکھاجاتاہے کہ شریف خاندان کی لڑکی حاملہ ہو جاوے ۔تو جھٹ پٹ اس کا نکاح کر دیتے ہیں تاکے ناک نہ کٹ جاوے ۔ان بزرگو ں کو بھی یہی فکر پیدا ہو ئی ۔کیو نکہ وہ اصل واقعہ سے بالکل بے خبر اور نہ آشناتھے ۔اس لیے اُنہوں نے ان باتوں کی ذرابھی پرواہ نہ کی کہ اس نکاح سے عہد شکنی کاارتکاب ہو گا یادوسری شادی کی وجہ سے بقول یُسوع مسیح یہ زناکاری ٹھہرے گی ،یاحاملہ کانکاح کرنا جائز نہیں ہے ۔عزیزوں نے بھی سمجھاکے اگر اب خاموشی کی گئی اور نکاح نہ کیا گیا ۔ تو ناک کٹ جائے گی ،اس لیے نکاح کردیاگی جس پر اس قدر اعتراض ہو تے ہیں ۔
اناجیل کی مبالغہ آرائی
مگر غو ر طلب سوال یہ ہے کے ان انجیل تویسوں نے اس واقعہ پ پرکیوںدیانت داری کے ساتھ روشنی نہیں ڈالی ۔ یہ دیانت داری کے خلاف ہے ۔ ایک جگہ ایک انجیل نویس لکھتاہے یسوع نے اس قدر کا م کیے کہ وہ اگر لکھے جاتے تو دنیا میں نہ سماسکتے ۔ مگر اس عقلمندی کی سمجھ پر افسوس آتاہے کی اس ایک ہی جملہ نے انجیل کی ساری حقیقت کھول دی کہ اس میں جو کچھ لکھاگیا ہے ایسی مبالغہ آمیز باتیں ہیں ، کیونکہ یہ کسی ہنسی کی بات ہے جو کام تین برس میں ہوسکتے ہیں وہ دنیامیں نہیں سماسکتے ۔جب محدود زمانے میں سماگئے توپھر مکائی طور پر کیوں محدود نہیں ہو سکتے ۔
اس قسم کے ردّی مواد سے بھراہواعیسائی مذہب کاپھوڑاہے ۔پھوڑوںکے پھوٹنے کا ایک وقت مقررہوتاہے ۔نصرانی مذہب بھی ایک پھوڑاہے جو اندر پیپ سے بڑاہواہے اس لیے باہر سے چمکتاہے ۔لیکن اب یہ وقت آگیاہے کے یہ ٹوٹ جاوے اور اس کی اندرونی غلاظت ظاہر ہو جاوے ۔