مُلعون ہوتاہے ۔پس اُنھوںنے یہ خیال کیا کہ ایک طرف تو ایلیاؔآیانہیں اور یہ مسیح ہونے کامدعی ہے اور ایلیاکے جو قصے پر جو فیصلہ دیتاہے ۔وہ بظاہر ملاکی نبی کی کتاب کے خلاف ہے ،اس لیے کاذب کی مخالفت اور خود مسیح کے طرزعمل اور سلوک نے یہودیو ں کو اور بھی برافروختہ کر دیا تھا۔ جب وہ اِن کو حرمکار ۔سانپ اور سانپ کے بچّے کہہ کر پکارتے تھے ۔پس اُنھوں نے صلیب کے لیے کوشش کی اور جب صلیب پر چڑھادیا تو ان کے پہلے خیال کو اوربھی مضبوطی ہو گئی ۔ کیو نکہ اُنھوں نے دیکھا کہ یہ صلیب پرلٹکایا جاکر لعنتی ہو گیا ہے ۔اس لیے سچُانہیں ہے ۔ اب انھوں نے یقین کر لیا کہ جب یہ خود لعنتی ہو گیا ،تو دوسروںکا شفیع کیسے ہو سکتاہے ۔صلیب نے اس کے کاذب ہو نے پر مہر لگا دی ۔دو،گواہوںکے ساتھ انسان پھانسی پسکتا ہے ۔اُنھوںنے اس وقت بھی کہا کہ تُو سچّاہے تو اُتر آ مگر وہ اُتر نہ سکا۔اس امر نے اُن کو بد ظن کر دیا۔٭ بقیہ ّ تقریر ۲۷ دسمبر ۱۹۰۱؁ء لعنت کامفہوم عیسائی چونکہ لعنت کے مفہوم اور منشاء سے ناواقف تھے ، اس لیے مسیح کو مُلعون قرار دیتے وقت اُنھوں نے کچھ نہیں سوچاکہ اُس کاانجام آخر کیا ہو گا ؟علاوہ بریں چونکہ عربی سے اُنہیں بغض تھا ،اس لیے عبرانی میں بھی پوری مہارت حاصل نہ کر سکے ۔یہ دونوںزبانیں ایک ہی در خت کی شاخیں ہیں اور عربی جاننے والے کے لیے عبرانی کاپڑھنا سہل تر ہے ، مگر عیسائی بوجہ بغض عبرانی لُغت سے بھی فائدہ نہ اُٹھاسکے ۔ لعنت کامفہوم یہ ہے کہ ۰۰۰۰کوئی خداتعالیٰ سے سخت بیزار ہو جاوے اور خداتعالیٰ اس سے بیزار ہو جاوے ۔ عیسائیوںکے اپنے مطبع کی چھپی ہوئی لغت کی کتابیں جو بیروت سے آتی ہیں ۔ان میں بھی لعنت کے یہی معنے لکھے ہو ئے ہیں ۔اور یعن شیطان کو کہتے ہیں ۔مجھے ان لوگوںکی سمجھ پر افسوس آتاہے کہ اُنھو ں نے اپنے مطلب کی خاطر ایک عظیم الشان نبی کی سخت بے حُرمتی کی ہے اور اس کو یعن ٹھہرایاہے اور انھوں نے اس پرکچھ بھی توجہ نہیں کی کہ لعنت کاتعلق دل سے ہوتاہے ۔جب تک خداسے بر گشتہ نہ ہولے۔ملعون نہیں ہو سکتا ۔اب کسی عیسائی سے پوچھو کہ کیا عربی اور عبرانی لُغت میں لعنت کے یہ معنی متفق علیہ ہیں یانہیں ؟پھر اگر دل میں شرارت یاہٹ دھرمی نہیں ہے اورمحض خداتعالی ٰ کی رضاکے لیے ایک مذہبکو اختیار کیاجاتاہے تو کیاایک لعنت ہی کامضمون عیسائی مذہب کے استیصال کے لیے کافی نہیں ہے؟ اوّل غور کرے جب یہ بات مسلّم تھی اور