آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں
غرض جس پہلو سے مسیح کا مقابلہ آنحضرت سے بایںدعویٰ خدائی کیا جاوے تو صاف نظر آتاہے کہ مسیح کو آپ ؐسے کوئی نسبت ہی نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک عظیم الشان کامیاب زندگی ہے ۔
آپ کیابلحاظ اپنے اخلاق فاضلہ کہ اور کیابلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعائوںکی قبولیت کے غرض ہرطرح ہر پہلومیںچمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کرغبی سے غبی انسان بھی بشرطیکہ اُس کے دل میںبیجاضد اور عداوت نہ ہو ۔ صاف طور پر مان لیتاہے کہ آپؐ تَخَلَّمُّوْابِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کاکامل نمونہ اور کامل انسا ن ہیں، لیکن جب کوئی مسیح کے حا لات پر نظر کرتاہے ۔تو ایک دانشمند اور منصف مزاج انسان کو تامل ہوتاہے کہ ایک ایسے انسان کو جو مہذّب اورشریفانہ باتوںکاجواب گالی سے دیتاہے ،نیک اُستاد کہنے والوںکوسانپ اور سانپ کے بچّے اور حرامکار کہتاہے ۔خداتوایک طرف نبی ہی تسلیم کرے۔
مسیح پر ایمان لانے میںیہودکی مشکلات
ان ساری باتوںکے علاوہ یہود کو ایک بڑی عجیب مشکل درپیش تھی ۔ جس میںبظاہر وہ حق پرہوسکتے ہیں ۔اور وہ یہ تھی کہ ملاکیؔنبی کی کتاب میںوہ پڑھ چکے تھے مسیحؑ کے آنے کے آنے سے پہلے ایلیاؔکاآسمان سے اُترناضروری ہے ۔جب تک وہ نہ آوے مسیح نہ آوے گا ۔اب اُن کے سامنے کسی کے دوبارہ آنے کی نظیر موجود نہیں اورایلیاؔکاآسمان سے اُترنا وہ اپنی کتابوںمیںپڑھتے آئے تھے ۔اُنھوںنے ایلیاؔکو آتے دیکھانہیں ۔مسیح نے آنے کادعویٰ۔اُسے تسلیم کریں ،تو کیونکر ۔مسیح نے جو فیصلہ ایلیاؔکے آنے کا کیاکہ وہ یوحنّاؔکے رنگ میںآگیا یہودیوںکے پاس بظاہر اس کے انکار کے لیے وجوہات تھیں، کیونکہ اُن کو ایلیاؔکا وعدہ دیاگیا تھا، نہ مثیل ایلیاؔکا۔اور اس سے پہلے کوئی واقعہ اس قسم کا نہ ہواتھا ۔اس لیے اُن کو مسیح کاانکار کرناپڑا ۔
ایک یہودی کی کتاب میرے پاس موجود ہے ۔اُس نے بڑے زور سے اس بات پربحث کی ہے اور پھر اپیل کرتاہے کے بتائو ایسی صورت میںہم کیا کریں ۔ بلکہ اُس نے یہاںتک لکھاہے کہ اگر خداتعالیٰ ہمیںاس کے متعلق بازپرس کرے گا ، ہم ملا کی نبی کی کتاب کھول کر اُسکے سامنے رکھ دیںگے۔
غرض ایک مشکل تو یہودیوں کو یہ پیش آئی کہ مسیح مصلوب ہوگیا اور صلیب کی لعنت نے ان کے کذب پر ایک اور رنگ چڑھادیا ۔کیونکہ وہ توریتؔمیںپڑھ چکے تھے کے جھوٹانبی صلیب پر لٹکایاجاتاہے اوروہ