کھاتا رہا۔اور جس کو سر رکھنے کی جگہ نہ ملی ۔( اگر ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ہم خدا کے ایک نبی اور مامور کی نسبت یہ گمان کریں کہ وہ ایسا ذلیل اور مفلوک الحال تھا) انسان کا سب سے بڑا نشان اس کا خلق ہے لیکن ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دینے والے معلم کی عملی حالت میں اس خلق کا ہمیں کوئی پتہ نہیں لگتا ۔ دوسروں کو کہتا ہے کہ گالی نہ دو مگر یہودیوں کے مقدس فریسیوں اور فقیہوں کو حرامکار , سانپ کے بچے آپ ہی کہتا ہے ۔یہودیوں کے بالمقابل اخلاق پائے جاتے ہیں وہ اسے نیک استاد کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور یہ ان کو حرام کار کہتے ہیں اور کتوں اور سؤروں سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ باوجودیکہ وہ فقیہہ اور فریسی نرم نرم الفاظ میں کچھ پوچھتے ہیں۔اور وہ دنیوی وجاہت کے لحاظ سے بھی رومی حکومت میں کرسی نشین تھے۔ ان کے مقابلے کے سوالوں کا جواب تو بہت نرمی سے دینا چاہئیے تھا اور خوب ان کو سمجھانا چاہئے تھا؛ حالانکہ یہ بجائے سمجھانے کے گالی پر گالی دیتے چلے جاتے ہیں کیا اس کا نام اخلاق ہے میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر قرآن شریف نہ ہوتا اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ آئے ہوتے تو مسیح کی خدائی اور نبوت تو ایک طرف شاید کوئی دانشمند ان کوکوئی عالی خیال اور وسیع الاخلاق انسان ماننے میں بھی تامل کرتا یہ قرآن شریف کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان عام ہے تمام نبیوں پر اور خصوصا مسیح پر کہ اس نے ان کی نبوت کا خود ثبوت دیا۔ پھر ایک اور پہلو سے بھی مسیح کی خدائی کی پڑتال کرنی چاہئے کہ اخلاقی حالت تو خیر یہ تھی ہی کہ یہود کے معزز بزرگوں کا آپ گالیاں دیتے تھے لیکن جب ایک وقت قابو آگئے تو اس قدر دعا کی کہ جس کی کوئی حد نہیں مگر افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ ساری رات کی دعاجیسا کہ عیسائیوں کے عقیدے کے موافق بالکل رد ہو گئی اور اس کا کوئی بھی نتیجہ نہ ہوا؛اگرچہ خدا کی شان کے ہی یہ خلاف تھا کہ وہ دعا کرتے چاہئے تو یہ تھا اپنی اقتداری قوت کا کوئی کرشمہ اس وقت دکھا دیتے جس سے بیچارے یہود اقرار اور تسلیم کے سوا کوئی چارہ ہی نہ دیکھتے مگر یہاں الٹا اثر ہو رہا ہے اور او خود گم است کرا رہبری کند کا معاملہ نظر آتا ہے ۔ دعائیں کرتے ہیں چیختے چلاتے ہیں مگر افسوس وہ دعا سنی نہیں جاتی اور موت کا پیالہ جو صلیب کی لعنت کے زہر سے لبریز ہے ، نہیں ملتا اب کوئی اس خدا سے کیا پائے گا جو خود مانگتا ہے اور اسے دیانہیں جاتا۔ ایک طرف طرف تو تعلیم دیتا کہ جو مانگو سو ملے گا دوسری طرف خود اپنی ناکامی اور نامرادی کا نمونہ دکھاتا ہے اب انصاف سے ہمیں کوئی بتائے کہ کسی پادری کوکیا تسلی اور اطمینان خدائے ناکام میں مل سکتا ہے؟