تھے مگر آپ نے کیا کیا ؟ آپ نے سب کو چھوڑ دیا اور کہا لا تثریب علیکم الیوم۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے مکہ کے مصائب اور تکالیف کا نظارہ کو دیکھو کہ قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے کس طرح اپنے جانستاں دشمنوں کو معاف کیا جاتا ہے یہ ہے نمونہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مکہ والوں نے آپ کی نری تکذیب نہیں کی تھی ۔نری تکذیب سے جو محض سادگی کی بناء پر ہوتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالی سزائیں نہیں دیتا ہے لیکن جب مکذب شرافت اور انسانیت سے دور نکل کر بے حیائی اور دریدہ دہنی سے اعتراض کرتا ہے اور اعتراضوں ہی حد تک نہیں رہتا بلکہ ہر قسم کی ایذا دہی اور تکلیف رسانی کے منصوبے کرتا ہے اور پھر اس کو اس حدتک پہنچاتا ہے توا للہ تعالی کی غیرت جوش میں آتی ہے اور اپنے مامور اور مرسل کے لئے وہ ان ظالموں کو ہلاک کردیتا ہے ، جیسے نوح کی قوم کو ہلاک کیا یا لوط کی قوم کو اس قسم کے عذاب ہمیشہ ان شرارتوں اور مظالم کی وجہ سے آتے ہیں جو خدا کے ماموروں اور ان کی جماعت پر کئے جاتے ہیں ؛ورنہ نری تکذیب کی سزا اس عالم میں نہیں دی جاتی اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور اس نے ایک او ر عالم عذاب کے لئے رکھاہے ۔ عذاب جو آتے ہیں وہ تکذیب کو ایذا کے درجے تک پہنچانے سے آتے ہیں اور تکذیب کو استہزاء اور ٹھٹھے کے رنگ میں کر دینے سے آتے ہیں اگر نرمی اور شرافت سے یہ کہا جاوے کہ میں نے اس معاملہ کو سمجھا نہیں اس لئے مجھے اس کے ماننے میں تامل ہے تو یہ انکار عذاب کو کھینچ لانے والا نہیں ہے کیونکہ یہ تو صرف سادگی اور کمی علم کی وجہ سے ہے میں سچ کہتا ہوں کہا گر نوح کی قوم کا اعتراض شریفانہ رنگ میں ہوتا توا للہ تعالی نہ پکڑتا ساری قومیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں سزا پاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تویہاں تک فرما دیا ہے کہ جو لوگ قرآن سننے کے منکر ہوں اس کے لئے اسلام میں جبر و اکراہ نہیں جیسے فرمایا: لا اکراہ فی الدین( البقرہ:۲۵۷) لیکن اگر کوئی قتل کرے گا یا قتل کے منصوبے کرے گا اور شرارتیں اور ایذا رسانی کی سعی کرتا ہے تو ضرورہے کہ وہ سزا پاوے ۔ قاعدے کی بات ہے کہ مجرمانہ حرکات پر ہر ایک پکڑا جاتا ہے پس مکہ والے بھی اپنی شرارتوں اور مجرمانہ حرکات کے باعث اس قابل تھے کہ ان کو سخت سزائیں دی جاتیں اور ان کے وجود سے ارض مقدس اور اس کے گردونواح کو صاف کر دیا جاتا مگر یہ رحمۃ للعالمیں اور انک لعلی خلق عظیم کا مصداق اپنے واجب القتل دشمنو ں کو بھی پوری قوت اور مقدرت کے ہوتے ہوئے کہتا ہے لا تثریب علیکم الیوم اب پادری ہمیں بتائیں کہ مسیح کے اس خلق کو ہم کہاں ڈھونڈیں ؟ ان کی زندگی میں آپؐ کا نمونہ کہاں سے لائیں جب کہ وہ ان کے عقیدے کے موافق ماریں ہی