انصاف اور ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں مسیح کو بالکل ناکامیاب ماننا پڑتا ہے کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قسم کا موقعہ ملا ہے مسیح کو نہیں ملا اور یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ یہی وجہ کہ مسیح کو کامل نمونہ ہم کہہ نہیں سکتے انسان کے ایمان کی تکمیل کے دو پہلو ہوتے ہیں اول یہ دیکھنا چاہئے کہ جب وہ مصائب کا تختۂ مشق ہو اس وقت خدا تعالی سے کیسا تعلق رکھتا ہے ؟کیا وہ صدق ،اخلاص ،استقلال ، اور سچی وفاداری کے ساتھ ان مصائب پر انشراح صدر سے اللہ تعالی کی رضا کو تسلیم کرتا ہے اورا س کی حمد و ستائش کرتا ہے یا شکوہ و شکایت کرتا ہے اور دوسرے جب اس کو عروج حاصل ہو اور اس کے اقبال کو فروغ ملے تو کیا اقتداراور اقبال کی حالت میں وہ خدا ئے تعالی کو بھول جاتا ہے اور اسکی حالت میں کوئی قابل اعتراض تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔یا اسی طرح خداتعالی سے تعلق رکھتا ا ورا س کی حمد وستائش کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو عفو کرتا اور ان پر احسان کر کے اپنی عالی ظرفی اور بلند ہوصلگی کا ثبوت دیتا ہے۔ مثلا ایک شخض کو کسی نے مارا ہے اگر وہ اس پر قادر ہی نہیں ہوا کہ کہ اس کو سزا دے سکے اور اپنا انتقام لے پھر بھی وہ یہ کہے کہ دیکھومیں نے اس کو کچھ بھی نہیں کہا تو یہ بات اخلاق میں داخل نہیں ہوسکتی اور اس کا نام بردباری اور تحمل نہیں رکھ سکتے کیونکہ اسے قدرت ہی حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسی حالت ہے کہ گالی کے صدمہ سے بھی رو پڑے تو یہ ستر بی بی از بے چادری کا معاملہ ہے اس کو اخلاق اور بردباری سے کیا تعلق ۔ مسیح کے اخلاق کا نمونہ بھی اسی قسم کا ہے اگر انہیں کوئی اقتداری قوت ملتی اور اپنے دشمنوں کا انتقام لینے کی توفیق انہیں ہوتی پھر اگر وہ اپنے دشمنو ں سے پیار کرتے اور ان کی خطائیں بخش دیتے تو بے شک ہم تسلیم کر لیتے کہ ہاں انہوں نے اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھایا ہے لیکن جب یہ موقعہ ہی ان کو نہیں ملا تو تو پھر انہیں اخلاق کا نمونہ ٹھہرانا صریح بے حیائی ہے ۔جب تک یہ دونوں پہلو نہ ہوں خلق کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔اب مقابلے میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوکہ جب مکہ والوں نے آپؐ کو نکالا اور تیرہ برس تک ہر قسم کی تکلیفیں آپ ؐ کو پہنچاتے رہے آپ ؐکے صحابہ کو سخت سخت تکلیفیں دیں جن کے تصور سے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اس وقت جیسے صبر اور برداشت سے کام آپ نے لیا وہ ظاہر بات ہے ۔لیکن جب خدا تعالی کے حکم سے آپؐ نے ہجرت کی اور پھر فتح مکہ کا موقع ملا تو اس وقت ان تکالیف اور مصائب اور سختیوں کا خیال کر کے جو مکہ والوں نے آپؐ اور آپ ؐکی جماعت پر کی تھیںآپؐ کو حق پہنچتا تھا کہ قتل عام کر کے مکہ والوں کو تباہ کر دیتے اور اس قتل میں کوئی مخالف بھی آپؐ پر اعتراض نہیں کر سکتا تھا ، کیوں کہ ان تکالیف کے لئے وہ واجب القتل ہو چکے تھے اس لئے اگر آپ میں قوت غضبی ہوتی تو وہ بڑا عجیب موقع انتقام کا تھا کہ وہ سب گرفتار ہو چکے