اور قوت قدسی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ ضد اور تعصب ایک الگ امر ہے جو اپنی تاریکی کی وجہ سے سچائی کے نور کو دیکھنے کی قوت کو سلب کر دیتا ہے، لیکن اگر کوئی دل انصاف سے خالی نہیں اور کوئی سرعقلِ صحیح سے حصہ رکھنے والا ہے تو اس کو صاف اقرار کرنا پڑیگا کہ آپؐ سے بڑہ کر عظیم الشان پاکیزگی کی طرف تبدیلی کرا دینے والا انسان دنیا مین نہین گذرا۔ اللہم صل علی محمد وآلہ۔ اب بالمقابل ہم پُوچھتے ہیں کہ مسیح نے کس کا علاج کیا؟ اُنہوں نے اپنی روحانیت اور عقدِ ہمّت اور قوتِ قُدسی کا کیا کرشمہ دکھایا؟ زبانی باتیں بنانے سے تو کچھ فائدہ نہیں جبتک عملی رنگ میں اُن کا نمونہ نہ دکھایا جاوے جبکہ اس قدر مبالغہ اُن کی شان میں کیا گیا ہے کہ بایں ضُعف و ناتوانی اُن کو خدا کا منصب دیدیا گیا ہے۔ تو چاہیے تو یہ تھا کہ اُن کی عام رحمت اپنا اثر دکھاتی اور اقتداری قوت کوئی نیا نمونہ پیش کرتی کہ گناہ کی زندگی پر دنیا میں موت آجاتی اور فرشتوں کی زندگی بسر کرنے والوں سے دُنیا معمور ہو جاتی، مگر یہ کیا ہو گیا کہ چند خاص آدمی بھی جو آپ کی صحبت میں ہمیشہ رہتے تھے، دُرست نہ ہو سکے۔ عیسائی اپنے خدا یُسوع کا مقابلہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنے بیٹھ جاتے ہیں، مگر تعجّب ہے کہ انہیں شرم نہیں آتی کہ وُہ اس طرز پر کبھی ایک قدم بھی چلنا گوارا نہیں کرتے۔ اور اس طریق پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا مقابلہ کریں، تو اُنہیں معلوم ہو جاوے۔ یا درکھو کہ نبی تخلقوا باخلاق اللہ ثابت کرنے کے لئے آتے ہیں۔اوراپنی عملی حالت سے دکھا دیتے ہیں کہ وہ اخلاق اللہ کا پورا نمونہ ہیں ۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا میں جس قدر اشیاء خدا تعالی نے پیدا کی ہیں وہ سب کی سب کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے مفید ہیں جیسے درخت بنایا ہے اس کے پتے اور اس کا سایہ اور اس کی چھال اس کی لکڑی اس کا پھل غرض اس کے سارے حصے کسی نہ کسی رنگ میں انسان کے لئے فائدہ بخش ہیں سورج کی روشنی سے انسان کو بہت سے فائدحاصل کرتا ہے اور اسی طرح پر تمام چیزیں ہیں جو انسان کے لئے مفید اور نفع رساں ہیں مگر ہم کو عیسائیوں کی حالت پر افسوس آتا ہے کہ انہوں نے ایک عاجز انسان کو خدا اور خدا کا بیٹا بھی قرار دیا ہے مگراس کا کوئی فائدہ دنیا پر ثابت نہیں کر سکتے اور کوئی اس کی مقتدرانہ تجلی کا نمونہ ان کے ہاتھ میں نظر نہیں آتا چاہئے تو یہ تھا کہ ان کا ابن اللہ اگر پدر نتواند پسر تمام کند کا مصداق ہوتا مگر جب اس کی سوانح عمری پر غور کرتے ہیں تو ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ا س نے کچھ بھی نہیں کیا نری خود کشی اور دوسروں کی مصبیت دیکھ کر اپنی جان پر کھیل جانا یہ کیا دانشمندی اور مصلحت ہے اور اس سے ان مصیبت زدوں کو کیا فائدہ ؟