یہی بلکہ انسان کی تمدّنی، معاشرنی اور سیاسی زندگی کو اُس سے کوئی تعلّق ہی نہیں اور پھر لُطف یہ کہ اُس کے کوئی تاثیرات باقی نہیں ہیں۔
دعویٰ ایسا کیا کہ عقل، کانشنس، قانُونِ قدرت اور متقدمین کے عقائد اور مسلّمات کے صریح خلاف۔ ان انگریز مصنّفوں کو اقرار کرنا پڑا ہے کہ اگر قرآن نہ آتا، تو بہت بری حالت ہوتی۔ اُنہوں نے اِعتراف کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں، وحشیوں کو دُرست کیا اور پھر ایسے صادق اور وفادار لوگ تیار کیے کہ اُنہوں نے اس کی رفاقت میں کبھی اپنے جان ومال کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اِس قسم کی وفاداری اوراطاعت، اِیثاراور جانثاری پیدا نہیں ہوسکتی جبتک مقتدا اور متبوع میں اعلیٰ درجہ کی قوتِ قدسی اور جذب نہ ہو۔ پھر لکھتا ہے کہ عربوں کو سچّی راستبازی ہی نہ سکھائی گئی تھی، بلکہ اُن کی دماغی قوتوں کی بھی تربیّت کی تھی۔ حواری تو ایک گائوں کا بھی انتظام نہ کرسکتے تھے، مگر صحانہؓ نے دُنیا کا انتظام کر کے دکھا دیا۔کون کہہ سکتا ہے کہ ابو بکر اور عمر رضی اﷲ عنہما کے والدین نے حکومت اور سلطنت کی تھی اور اس لیے وہ انتظامِ ملک داری اور قوانینِ سیاست سے آگاہ تھے۔ نہیں۔ہرگز نہیں۔ یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیّت اور قرآن شریف کی کامل تعلیم کا نتیجہ تھا کہ ایک طرف اُس نے اُن کو فرشتے بنادیا اور دوسری طرف وہ عقلِ مجسّم ہوگئے ؎ٰ۔
یہ کیسی بدیہی اور صاف بات ہے کہ ایک طبیب اگر ناقابل علاج مریضوں کو اچھّا کر دے، تو اس کو طبیب حاذق ماننا پڑیگااور جو اس پر بھی اس کی حذاقت کا اقرارنہ کرے، اس کو بجز احمق اور نادان کے اور کیا کہیںگے۔ اسی طرح پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھوں مریضانِ گناہ کو اچھّا کیا؛ حالانکہ ان مریضوں میں سے ہر ایک بجائے خود ہزار ہا قسم کی روحانی بیماریوں کا مجموعہ اور مریض تھا۔جیسے کوئی بیمار کہے سَر درد بھی ہے۔ نزول ہے۔ استسقاء ہے۔ وجع المفاصل ہے۔ طحال ہے۔ وغیرہ وغیرہ تو جو طبیب ایسے مریض کا علاج کرتا ہے اور اس کو تندرست بنا دیتا ہے۔ اس کی تشخیص اور علاج کو صحیح اور حکمی ماننے کے سواچارہ نہیں ہے۔ ایسا ہی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو اچھّا کیا اُن میں ہزاروں روحانی امراض تھے۔جس قدر اُن کی کمزوریوں اور گناھ کی حالتوں کا تصور کر کے پھر اُن کی اسلامی حالت میں تغیّر اور تبدیلی کو ہم دیکھتے ہیں۔ اسی قدر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت