اپنے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھٰ اس کی نظیر کسی دوسرے نبیوں کے متبیعین میں نہیں ملتی ہے۔ خصوصاً مسیح علیہ السلام تو اس مقابل میں بالکل تہی دست ہیں ۔ اب جبکہ اس قدر غلو اُن کی شان میں کیا گیا ہے اور باوجود کمزوریوں کی ان مثالوں اور واقعات کے ہوتے ہوئے جو انجیلؔ میں موجود ہیں، اُن کو خدا بنایا گیا ہے۔ ان کی قوتِ قدسی اور جذب وکشش کا یہ نمونہ پیش کیاگیا ہے کہ وہ چند حواریوں کو بھٰ دُرست نہ کر سکے، تو اور اُن سے کیا اُمّید ہوسکتی ہے۔ عیسائی جب حواریوں کی اعتقادی اور عملی کمزوریوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتے، تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ مسیحؑ کے بعد اُن میں قوت اور طاقت آگئی تھی اور وُہ کامل نمونہ ہوگئے تھے، مگر یہ جواب کیسا مضحکہ خیز اور عذرِ گناہ بد تر از گناہ کا مِصداق ہے۔ کہ چراغ کی موجودگی میں تو کوئی روشنی نہیں۔ چراغ کے بُجھ جانے کے بعد روشنی ہوگئی۔ کیا خُوب!!! ایک نبی کے سامنے تو وہ پاک وصاف نہ ہو سکے۔ اس کے بعد ہو گئے؟ اس سے تو معلوم ہوا کہ مسیح اپنی قوتِ قُدسی کے لحاط سے اور بھی کمزور اور ناتواں تھا۔ معاذاﷲ یہ ایک نحوست تھی کہ جبتک حواریوں کے سامنے رہی وُہ پاک نہ ہو سکے اور جب اُٹھ گئی، تو پھر رُوح القدس سے معمور ہو گئے۔ تعجّب!! بہت سے انگریزمصنّفوں نے بھی اِس مضمون پر قلم اُٹھایا ہے اور رائے ظاہر کی ہے کہ مسیح نے ایک گروہ پایا تھا جو پہلے سے توریت کے مقاصد پر اطلاع پاچکے تھے اور فقیہوں فریسیوں سے خدا کی باتیں سُنتے تھے۔ اگر وُہ راستبازی اور پاکباز ہوتے تو کوئی تعجّب کی بات نہ تھی اور چودہ سو برس تک لگاتار ان میں وقتاً فوقتاً نبی اور رسول آتے رہے، جو خدا کے احکام اور حدود سے انہیں اطلاع دیتے رہے۔ گویا اُن کے نُطفہ میں رکھا ہوا تھا کہ وُہ خدا کو مانیں اور خدا کے حدود کی عظمت کریں اور بدکاری سے بچیں۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ وہ اس تعلیم سے جو مسیح انہیں دینے چاہتا تھا۔ بے خبر ہوتے۔ مسیح اگر انہیں دُرست بھی کر دیتے تب بھی یہ کوئی بڑی قابل تعریف بات نہ تھی، کیونکہ ایک طبیب کے کامل علاج کے بعد اگر کوئی دوسرا اچھّا کردے، تو یہ خوبی کی بات نہیں۔ اس لیے بفرضِ محال اگر مسیح نے کوئی فائدہ پہنچایا بھی ہو تو بھی یہ کوئی قابل تعریف بات نہیںہے، لیکن افسوس ہے کہ یہاں کسی فائدہ کی نظیر بھی نظر نہیں آتی۔ یہودؔ نے تیس روپیہ لے کر اُستاد کو بیچ لیا اور پطرسؔ نے سامنے کھڑے ہو کر لعنت کی اور دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے اُحد اور بدر میں آپؐ کے سامنے سَر دیدیئے۔ اب انصاف کا مقام ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ آئے ہوتے اور قرآنِ شریف نہ ہوتا تو ایسے نبی کی بابت کیا کہتے جس کی تعلیم اور قوتِ قُدسی کے نمونے یہودؔ ا اسکریوطی اور پطرسؔ ہیں۔ قوتِ قدسی کا یہ حال اور تعلیم ایسی اُدھوری اور ناقص کہ کوئی دانشمند اُسے کامل نہیں کہہ سکتا اور نہ صرف