نے بیان نہیں کی۔ اس نے صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ اسی دُنیا سے یہ سلسلہ جاری ہوتا ہے؛ چنانچہ فرمایا ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمٰن : ۴۷) یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا۔ اس کے واسطے دو بہشت ہیں۔ یعنی ایک بہشت تو اسی دُنیا میں مل جاتا ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ کا خوف اُس کو برائیوں سے روکتا ہے اور بدیوں کی طرف دوڑنا دل میں ایک اضطراب اور قلق پیدا کرتا ہے۔ جو بجائے خود ایک خطرباک جہنّم ہے، لیکن جو شخص خدا کا خوف کھاتا ہے تو وہ بدیوں سے پرہیز کرکے اس عذاب اور درد سے دم ِ نقد بچ جاتا ہے جو شہوات اور جذباتِ نفسانی کی غلامی اور اسیری سے پیدا ہوتا ہے اور و۲ہ وفاداری اور خدا کی طرف جھکنے میں ترقی کرتا ہے جس سے ایک لذّت اور سرور اُسے دیا جاتا ہے اور یُوں بہشتی زندگی اِسی دنیا سے اُس کے لیے شروع ہو جاتی ہے اور اسی طرح پر اس کے خلاف کرنے سے جہنّمی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کر دیا ہے۔ اس وقت میرا صرف یہ مطلب ہے کہ میں اس دوسری دلیل کی طرف تمہیں متوّجہ کروں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر خدا تعالیٰ نے دی ہے یعنی یہ کہ آپؐ جس کام کے لیے آئے تھے، اس میں پُورے کامیاب ہو گئے۔میں نے بتایا ہے کہ جب آپؐ تشریف لائے تو آپؐ نے ہزار ہا مریضوں کو مرض کے آخری درجہ میں پایا۔ جو اُن کی موت تک پہنچ گیا تھا، بلکہ حقیقت میں وہ مر ہی چکے تھے جیسا کہ اس وقت کی تاریخ کے پتہ سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر انصافاً کوئی سوچے کہ اپنے خدمت گار کے عیب دور نہیں کر سکتے تو جو شخص ایک بگڑی ہوئی قوم کی ایسی اصلاح کر دے کہ گویا وُہ عیب اُس میں تھے ہی نہیں تو اس سے بڑھ کر اس کی صداقت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلماتوں نے اس طرف توجّہ نہیں کی؛ ورنہ یہ ایسے روشن دلائل ہیں کہ دوسرے نبیوں میں اُس کے نظائر بہت ہی کم ملیں گے۔ مثلاً جب ہم آپؐ کے بالمقابل حضرت مسیحؑ کو دیکھتے ہیں، تو کسقدر افسوس ہوتا ہے کہ وہ چند حواریوں کی بھی کامل اصلاح نہ کر سکے اور ہمیشہ اُن کو سُست اعتقاد کہتے رہے۔ یہانتک کہ بعض کو شیطان بھی کہا۔ وہ ایسے لالچی تھے کہ یہودا اسکریوطی جو مسیح کا خزانچی تھا۔ بسااوقات اس تھیلی میں سے جو اُس کے پاس رہا کرتی تھی۔ کبھی کبھی چُرا بھی لیا کرتا تھا۔ آخر اسی لالچ نے اُسے مجبور کیا کہ وہ تیس درہم لیکر اپنے اُستاد اور مُرشد کو گرفتار کرادے۔ اِدھر جب نبی کیم س کے صحابہؓ کی طرف دیکھتے ہیں تو اُنہوں نے اپنیجانیں دے دینی آسان سمجھیں، بجائے اس کے کہ اُن میں گدّاری کا باپاک حصّہ پایا جاتا۔ یُورپین موّرخوں تک کو اس امر کا اعتراف کرنا پڑا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں جو اُنس و فاداری اور اطاعت