یعنی اﷲ تعالیٰ کا عذاب ایک آگ ہے۔ جس کو وُہ بھڑکاتا ہے اور انسان کے دل ہی پر اس کا شعلہ بھڑکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عذابِ الٰہی اور جہنّم کی اصل جڑ انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اور گندے ارادے اور عزم اس جہنّمکا ایندھن ہیں۔ اور پھر بہشت کے انعامات کے متعلق نیک لوگوں کی تعریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : یفجرو نہا تفجیرا (الدّھر : ۷) یعنی اس جگہ نہریں نکال رہے ہیں ۔اور پھر دُوسری جگہ مومنوں اور اعمالِ صالحہ کرنیوالوں کی جزاء کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : جنت تجری من تحتھا الانہار اب میں پُوچھتا ہوں کہ کیا کوئی ان باتوں کو قصّہ قرار دے سکتا ہے۔ یہ کیسی سچّی بات ہے۔ جو یہاں آبپاشی کرتے ہیں وہی پھَل کھائیں گے ۔ غرض قرآن شریف اپنی ساری تعلیموں کو علوم کی صورت ور فلسفہ کے رنگ میں پیش کرتا ہے اور یہ زمانہ جس میں خدا تعالیٰ نے ان علوم حقہ کی تبلیع کے لیے اِس سلسلہ کو خود قائم کیا ہے۔ کشفِ حقائق کا زمانہ ہے۔
پس یاد رکھنے چاہیے کہ قرآن شریف نے پہلی کتابوں اور نبیوں پر احسان کیا ہے۔ جو اِن کی تعلیموں کو جو قصّہ کے رنگ میں تھیں۔ علمی رنگ دیدیا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی شخص ان قصّوں اور کہانیوں سے نجات نہیں پاسکتا جبتک وہ قرآن شریف کو نہ پڑھے، کیونکہ قرآن شریف ہی کی یہ شان ہے کہ وُہ
انہ لقول فصل وما ھو بالھزل (الطارق : ۱۴،۱۵)
وُہ میزان ،مہیمن، نُور اور شفاء اور رحمت ہے۔ جو لوگ قرآن شریف کو پڑھتے اور اُسے قصّہ سمجھتے ہیں۔ اِنھوں نے قرآن شریف نہیں پڑھا، بلکہ اس کی بے حُرمتی کی ہے۔ ہمارے مخالف کیوں ہماری مخالفت میں اس قدر تیز ہوئے ہیں؟ صرف اسی لیے کہ ہم قرآن شریف کو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ سراسر نور، حکمت اور معرفت ہے، دکھا نا چاہتے ہیں۔ اور وُہ کوشش کرتے ہیں کہ قرآن شریف کو ایک معمولی قصّے سے بڑھ کر وقعت نہ دیں۔ ہم اس کو گوارا نہیں کر سکتے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم پر کھول دیا ہے کہ قرآن شریف ایک زندہ اور روشن کتاب ہے۔ اس لیے ہم ان کی مخالفت کی کیوں پروا کریں۔ غرض میں بار باراس امر کی طرف ان لوگوں کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ن یاس سلسلہ کو کشفِ حقائق کے لیے قائم کیا ہے کیونکہ بدُوں اس کے عملی زندگی میں کوئی روشنی اور نُور پیدا نہیں ہوسکتا ۔ اور میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعہ اسلام کی خُوبی دنیا پر ظاہر ہو۔ جیسا کہ خدا نے مجھے اس کام کے لیے مامُور کیا ہے۔ اس لیے قرآن شریف کو کثرت سے پڑھو مگر نرا قصہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک فلسفہ سمجھ کر۔
اب میں پھر اصل مطلب کی طرف رجُوع کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے بہشت اور دوزخ کی جو حقیقت بیان کی ہے کسی دوسری کتاب ن