اپنے پیٹ کی اور دوسری شہوات میں مبتلا اور اسیر ہیں۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ جب انسان جذباتِ نفس اور دیگر شہوات میں اسیر اور مبتلا ہوجاتا ہے تو چونکہ وہ طبعی تقاضوںکو اخلاقی حالت میں نہیں لاتا اس لیے ان شہوات کی غلامی اور گرفتاری ہی اس کے لیے جہنّم ہو جتی ہے اور اُن ضرورتوںکے حصول میں مشکلات کا پیش آنا اس پر ایک خطرناک عذاب کی صورت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ جس حال میں ہیں گویا جہنّم میں مبتلا ہیں۔
قرآنِ مجید قصّوں کا مجموعہ نہیں
یہ بات ہر گز ہر گز بھُول جانے کے قابل نہیں ہے کہ قرآن شریف جو خاتم الکتب ہے۔در اصل قصّوں کا مجموعہ نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اپنی غلط فہمی اور حق پوشی کی بناء پرقرآن شریف کو قصوں کا مجموعہ کہا ہے۔ اُنھوں نے حقائق شناس فطرت سے حصہ نہیں پایا؛ ورنہ اس پاک کتاب نے تو پہلے قصّوں کو بھی ایک فلسفہ بنا دیا ہے اور یہ اس کا احسانِ عظیم ہے، ساری کتابوں اور نبیوں پر؛ ورنہ آج ان باتوں پر ہنسی کی جاتی اور یہ بھی اﷲ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس علمی زمانہ میں جبکہ موجوداتِ عالم کے حقائق اور خواص الاشیاء کے علوم ترقی کر رہے ہیں۔ اس نے آسمانی علوم اور کشفِ حقائق کے لیے ایک سلسلہ کو قائم کیا۔ جس نے ان تمام باتوں کو جو فیج اعوج کے زمانہ میں ایک معمولی قصّوں سے بڑھ کر وقعت نہ رکھتی تھی اور اس سائنس کے زمانہ میں اُن پر ہنسی ہورہی تھی۔ علمی پیرایہ میں ایک فلسفہ کی صورت میں پیش کیا۔
بہشت ودوزخ کی حقیقت
پہلے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بالکل خیالی اور سادہ طور پر بہشت و دوزخ کو رکھا گیا تھا۔ حضرت مسیحؑ نے پھانسی پانے والے چور کو یہ تو کہہ دیا کہ آج ہم بہشت میں جائیںگے،مگر بہشت کی حقیق پر کوئی نکتہ بیان نہ فرمایا۔ ہم اس وقت اس سوال کو سمنے لانے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ عیسائیوں کے انجیلی عقیدے اور بیان کے موافق وُہ بہشت میں گئے یا ہاویہ میں، بلکہ صرف یہ دکھانا ہے کہ بہشت کی حقیقت اُنھوں نے کچھ بیان نہیں کی۔ہاں یُوں تو عیسائیوں نے اپنے بہشت کی مساحت بھی کی ہوئی ہے۔ بر خلاف اس کے قرآن شریف کسی تعلیم کو قصّے کے رنگ میں پیش نہیں بلکہ وہ ہمیشہ ایک علمی صُورت میں اُسے پیش کرتا ہے۔ مثلاً اسی بہشت ودوزخ کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے۔ من کان می ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل : ۷۳) یعنی جو اس دُنیا میں اندھا ہے، وُہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ کیا مطلب کہ خدا تعالیٰ اور دُوسرے عالم کے لذّات کے دیکھنے کے لیے اسی جہان میں حواس اور آنکھیں ملتی ہیں۔ جس کو اس جہاں میں نہیں ملیں، اس کو وہاں بھی نہیں ملیں گے۔ اب یہ امر انسان کو اس طرف متّوجہ کرتا ہے کہ انسان کا فرض نے کہ وہ اِن حواس اور آنکھوں کے حاصل کرنے کے واسطے اسی عالم میں کوشش اور سعی کرے تاکہ دُوسرے عالم میں بینا اُٹھے۔ ایسا ہی عذاب کی حقیقت اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے قرآن شریف فرماتا ہے۔ ناراﷲالموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ (الھمزۃ : ۷،۸)