ایک شخص اگرنہروں کی موجودگی اور متعدد کنؤوں کے ہوتے ہوئے پھر ان میں ہی کنوا ں لگاتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اس نے خیر جاری کے لئے یہ کام کیا ہے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے جسمانی جنگل میں پیدا ہوئے ویسے ہی روحانی جنگل بھی تھا مکہ میں اگر جسمانی ا ور روحانی نہریں نہ تھیں تو دوسرے ملک روحانی نہر نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے تھے اور زمین مر چکی تھی جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے
اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتہا(الحدید:۱۸)
یعنی یہ بات تمہیںمعلوم ہے کہ زمین سب کی سب مر گئی تھی اب خدا تعالی نئے سرے سے زندہ کرتا ہے پس یہ زبر دست دلیل ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی کہ آپ ایسے وقت میں آئے کہ ساری دنیا عام طور پر بدکاریوں اور بداعتقادیوں میں مبتلا ہو چکی تھی اور حق و حقیقت اور توحید اور پاکیزگی سے خالی ہو گئی تھی۔پھر دوسری دلیل آپؐ کی سچائی کی یہ ہے کہ آپؐ ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ کی طرف اُٹھا ئے گئے۔ جب وُہ اپنے فرضِ رسالت پورے طور پر ادا کر کے کامیاب اور بامُراد ہو چکے۔ حقیقت میں جیسے مامُور من اﷲ کے لیے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آیا وُہ وقت پر آیا ہے یا نہیں؟ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کامیاب ہوا یا نہیں۔ اُس نے اُن بیماروں کو جن کے علاج کے لیے وُہ آیا، اچھّا بھی کیا یا نہیں ۱؎ ‘‘؟
عربوں کی اخلاقی اور روحانی حالت
زیادہ تفصیل کی اس مقام پر ضرورت نہیں،کیونکہ اس مجمع میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو بخوبی علم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب کا کیا حال تھا۔ کوئی بدی ایسی نہ تھی جو ان میں نہ پائی جاتی ہو۔ جیسے کوئی ہر صیغہ اور امتحان کو پاس کر کے کامل اُستاد ہر فن کا ہو جاتاہے۔ اسی طرح پر وہ بدیوں اور بدکاریوں میں ماہر اور پُورے تھے۔ شرابی،زانی،یتیموں کا مال کھانے والے، قمار باز۔ غرض ہر برائی میں سب سے بڑھے ہوئے تھے، بلکہ اپنی بدکاریوں پر فخر کرنیوالے تھے۔ اُن کا قول تھا۔
ماھی الا حیا تنا الدنیا نموت انحیا (الجاثیۃ: ۲۵)
ہماری زندگی اسی قدر ہے کہ یہاں ہی مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں۔حشر نشر کوئی چیز نہیں۔ قیامت کچھ نہیں۔ جنّت کیا ہے اور جہنّم کیا؟ قرآن شریف کے احکام جن بدیوں اور برائیوں سے روکتے ہیں وہ سب مجموعی طور پر ان میں موجود تھیں۔ان کی حالت کا یہ نقشہ ہے۔ جس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ وُہ کیا تھے۔ ایک موقع پر فرماتا ہے۔ یتمتعون ویاکلون (محمّد :۱۳) کھاتے ہیں اور تمتع اُٹھاتے ہیں یعنی