بلکہ وہ کل دنیا کے لیے ایک رحمت کا نشا ن تھا :چنا چہ فر ما یا :۔ وَما َاَرْسَلْنٰک اِلَّارَحْمَتہ لِلْعٰلَمِیْنَ (الانبیاء:۱۰۸ ) یعنی اے نبی کر یم ہم نے تمھیں تما م عا لم پررحمت کے لیے بھیجاہے ۔آپکو تو کچھ معلو م نہ تھا کہ اس و قت آریاور ت کی کیا حا لت ہے اور کس خطر نا ک بت پر ستی کے غار میں گرا ہوا ہے ۔یہاں تک کہ انسا ن کی شر م گاہ کی پرستش بھی ان و ید ؔکے ماننے والو ں میںمرّو ج تھی اور نہ آ پ کو معلو م تھا کہ بلا د ِشا م کے عیسا ئیو ں کا کیا حا ل ہے وہ کس قسم کی انسا ن پر ستی میں مصروف ہوکر اخلاق اور اعمال صالحہ کے قیود سے نکل کر بالکل تاریک زندگی بسر کررہے تھے ۔اور نہ آپ کواس بات کاعلم تھا ۔ ایران،اور مصر میںکیا ہورہا؟غرض آپؐ توایک جنگل میں پیداہوئے تھے ۔ نہ اس وقت کوئی تاریخ مدون ہوئی تھی جو آپؐنے پڑھی ہوتی ۔ نہ کسی مدرسہ اور مکتب میںاپؐنے تعلیم پائی۔جو معلومات وسیع ہوتے اورنہ کوئی ذرائع لوگوںکے حالات معلوم کرنے کے تھے جیسے تار یا اخبار یا ڈاکخانے وغیرہ۔ آپؐ کو تو دنیاکے بگڑجانے کی اطلاع صرف خداتعالیٰ ہی کی طرف سے ملی۔جب یہ آیت اتری ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ(الروم:۴۲) یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے۔د ر یا ؤں سے مراد وہ لو گ ہیں جن کو پا نی دیا گیا یعنی شریعت اور کتا ب اللہ ملی اور جنگل سے مرا د وہ ہیں ،جن کو اس سے حصّہ نہیں ملا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اہلِ کتا ب بگڑ گئے اورمشرک بھی۔ الغر ض آپ کا زما نہ ایسا زمانہ تھا کہ دنیا میں تا ریکی پھیلی ہو ئی تھی۔ دلائل صدا قت اس و قت اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا تاتاریکی کو دور کریں ۔ ایسے پر فتن زمانہ مین(کہ چاروں طر ف فسق و فجور کی ترقی تھی اور شر ک و دہر یت کا زور تھا کہ نہ اعتقاد ہی درست تھے اور نہ اعما ل ِصا لحہ اورنہ اخلا ق ہی با قی رہے تھے )آپؐ کا پیدا ہونا بجائے خود آپؐ کی سچا ئی اور منجا نب اللہ ہو نے کا ایک زبر دست ثبو ت ہے ۔ کا ش کوئی اس پتر غو ر کرے ۔عقلمند اور سلیم الفطر ت انسا ن ایسے وقت پر اآنے والے مصلح کی تکذیب کے لیے کبھی جلدی نہیںکر سکتا ۔ اور کم از کم اس کو اتنا تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یہ وقت پر آیا ہے ۔وباء طاعو ن اور ہیضہ کی شد ت کے وقت اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں ان کے علا ج کے لیے آیا ہوں ، کیا اس قدر تسلیم کر نا پڑے گا یہ شخص ضرو رت کے وقت پر آیا ہے؟ بیشک ماننا پڑے گا ۔اسی طر ح پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے لیے پہلی دلیل یہی ہے کہ آپ ؐ جس وقت تشریف لائے ، وہ وقت چاہتا تھا کہ مردے ازغیب بیرون آیدوکارے بکند۔اسی کی طر ف قرآن ِکر یم نے اس آیت میںاشا رہ کیا ہے : بالحق انزلنا ہ و بالحق نزل( بنی اسرائیل:۱۰۶) پس یاد رکھو کہ مامور من اللہ کی شناخت کی پہلی دلیل یہی ہوتی ہے کہ اس وقت اور موقع پر نگاہ کی جاوے کہ کیا اس وقت کسی مرد آسمانی کے آنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔