باوجود ان ساری باتوں کے آج اسلام کے لئے خوشی کا دن ہے کہ معمورۂ عالم میں کوئی اس دن کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ اپنی روشن ہدایتوں اور عملی سچائیون کے ساتھ زندہ نشانات اور زندہ برکات کا ایک زبر دست معجزہ اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کے مقابلہ کے کسی میں طاقت نہیں۔ یہ بات کہ اسلام اپنی پاک تعلیم اور اس کے زندہ نتائج کے ساتھ اس وقت معمورۂ عالم مین ممتاز ہے نرا دعویٰ ہی دعویٰ نہیں، بلکہ خداتعالیٰ نے اپنے بندے کے ذریعہ اس سچائی کو ثابت کر دیا ہے اور کل مذاہب و ملل کو دعوت حق کر کے اس نے بتادیاہے کہ فی الحقیقت اسلام ہی ایک زندہ ہے اور جسے ابھی تک شک ہو وہ میرے پاس آئے اور ان خوبیوںاور برکات کوخود مشاہدہ کرے مگر طالبِ صادق بن کر آئے نہ جلد باز معترض ہوکر ۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت۔آنحضرتﷺجس زمانہ میں دنیا میں ظاہر ہوئے اور خداتعالیٰ کے جلال اور گم گشتہ توحید کو زندہ کرنے کے لیے آپ مبعوث ہوئے ۔ اس زمانہ ہی کی حالت پر اگر کوئی سعادت مند سلیم الفطرت غور کن دل لیکر فکر کرے ، تو اس کو معلوم ہوگا کے آپ ؐکی سچائی پر ایک روشن دلیل ہے اور دانشمنداس وقت ہی کو دیکھ کر اقرار کرے اور معجزہ بھی طلب نہ کرے ۔ پادری فنڈ رصاحب نے اپنی کتاب ’’میزان الحق ‘‘میں سوال یہ کیاہے کہ کیاسبب ہے جو آنحضرت ﷺنے نبوت کادعویٰ کیا اور خداتعالیٰ نے ان کو نہ روکا ؟اس سوال کاپھر آپ جواب دیتاہے کہ اُس وقت چونکہ عیسائی بگڑگئے تھے اُن کے اخلاق اور اعمال بہت خراب تھے ۔ انھوں نے سچّی راست بازی کاطریق چھوڑدیاتھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کی تنبیہ کے لیے آنحضرت ﷺکو بھیجااور اس لیے آپؐنہ روکا۔اس سے یہ نادان عیسائی آنحضرت ﷺکی سچّائی کا تواعتراف نہیں کرتا، بلکہ معترض کی صورت میں اس کو پیش کرتاہے ۔ میں کہتا ہوں کہ کیا اس وقت کے حسبِ حال کسی مصلح کی ضرورت تھی یا یہ کہ ایک کا جو ایک ہاتھ کاٹا ہوا ہے تو دوسرا بھی کاٹا جاویجو بیمار ہے پتھر مار کر ماردیاجاوے ۔کیا یہ خداتعالیٰ کے رحم کے مناسب حال ہے ؟ اصل بات یہ کے اس وقت جیساکہ عیسائی تسلیم کرتے ہیں وہ تاریکی زمانہ تھا اور دیانندؔنے اپنی کتاب میں تسلیم کیاہے اورتاریخ بھی شہادت دیتی ہے کہ ہندوستا ن میں بت پر ستی ہو رہی تھی ۔ نہ صر ف ہندو ستا ن میں بلکہ کل معمورہ ٔ عا لم میں ایک خطر نا ک تا ریکی چھا ئی ہوئی تھی ،جس کا اعترا ف ہر قو م اور ملت کے موّرخو ں اور محققوںنے کیا ہے اب ایسی حا لت میں نبی کر یم ﷺکا و جو د با جو د بے ضرو رت نہ تھا۔