معادکا حال ۔اور خداکی رضاکاپتہ معلوم ہوجاتاہے ۔ تونیکی نیکی نہ رہتی اور نہ اس کی کوئی قدرہوتی ۔ مشہودمحسوس چیزوںپر ایمان لانے سے کوئی ثواب نہیں مل سکتا۔مسجد پر درخت یا آفتاب پر ایمان لانیوالااوران کے وجودکااعتراف کرنے والاکسی جزاکا مستحق نہیںہے ،لیکن جو مخفی کو معلوم کر کے ایمان لاتاہے ۔وہ بے شک قابل تعریف فِعل کا کرنے والاٹھہرتاہے اور مدح اور تعریف کامستحق ٹھہرتاہے ۔ جب بالکل انکشاف ہو گیا ,پھرکیا؟اسی طرح پر اگرکوئی ۲۹دن کے ہلال کو دیکھتاہے توبے شک اس کی نظر قابل تعریف ہو گی ۔ لیکن اگر کوئی چودہ دن کے بعد جبکہ بدر ہوگیا اور عالمتاب روشنی نظر آتی ہے لوگوں کو کہے کے آئومیںتمھیںچاند دکھائوں میںنے دیکھ لیاہے تووہ مسخرہ اور فضول گو ٹھہرایاجائے گا۔
غرض قابلیت فراست سے ظاہر ہوتی ہے ۔خدانے کچھ چھپایاہے اور کچھ ظاہر کیاہے ۔ اگر بالکل ظاہر کرتا تو ایمان کاثواب جاتارہتا اور بالکل چھپاتاتوسارے مذ اہب تاریکی میںدبے رہتے اور کوئی بات قابل اطمینان نہ ہوسکتی اور آج کوئی مذہب والادوسرے کو نہ کہہ سکتا کہ تو غلطی پر ہے اور نہ مواخذہ کااصول قائم رہ سکتا تھا کیونکہ یہ تکلیف ملایطاق تھی مگر خداتعالیٰ فرمایا ہے :
لاَیُکَلِّفُ اللَّہُ نَفْسًااِلَّاوُسْعَہَا(البقرہ:۲۸۷)
پس خداکافضل ہے کہ ہلکا سا امتحان رکھاہو اہے جس میں بہت مشکلات نہیں ، باوجود یکہ عالم ایسا اَدقّ ہے کہ جوجاتاہے پھر واپس نہیں آتا ہے ۔ پھر بھی خداتعالیٰ نے انواروبرکات کاایک سلسہ رکھاہے جس سے اس دنیاہی میں پتہ لگ جاتاہے اور وہ مخفی اُمور متحقق ہوجاتے ہیں ۔۱؎
آج کل کے فلاسفروںنے مُردوںکے واپس آنے لی بہت تحقیقات کی ہے ۔امریکہ میںایک شخص کومارکر دیکھاکے آیامرنے کے بعد شور باقی رہتاہے یانہیں ۔ اس شخص کو جس پر تجربہ کرناچاہا۔کہہ دیاگیاکہ تم نے آنکھ کے اشارے سے بتا دینا مگر جب وہ ہلاک کیا گیا تو کچھ بھی نہ کر سکا کیونکہ یہ ایک سر الہی ہے جس کی تہہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔ انسان جب حد سے گزر تا ہے تو سر کی تلاش اور فکر میں ہوتا ہے مغربی دنیا میں جو زمینی تحقیقات میں لگی ہوئی ہے وہ ہر فلسفہ میں ادب سے دورنکل جاتی ہے اور انسانی حدود کو چھوڑ کر آگے قدم رکھنا چاہتی ہے مگر بے فائدہ مختصر یہ کہ اللہ تعالی نے ان امور کو جو ایمانیات سے متعلق ہیں نہ تو اس قدر چھپایا ہے تکلف کی حدت تک پہنچ جائیں اور نہ اس قدر ظاہر کیا ہے کہ ایمان ایمان ہی نہ رہے اور اور کوئی فائدہ اس پر مترتب نہ ہو سکے۔