یہی وہ لوگ ہیں ۔ جن کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہوتے ہیں اور جن کے کانوں اور آنکھوں پر پردے ہوتے ہیں۔اس لیے وہ خدا تعالیٰ کے مامُوروں اور مرسلوں کی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور اُن سے فائدہ نہ اٹھا کر محروم ہو جاتے ہیں اور آخری عذاب الہٰی میں گرفتار ہو جاتے ہیں‘‘۔
مامورین کی باتوں سے فائدہ اُٹھانے والے لوگ
لیکن جو حسن ِظن سے کا م لے کر صبرو استقلال کے ساتھ اس کی باتوں کو متو جّہ ہو کر سنتے ہیں وہ فائدہ اُٹھالیتے ہیں ، آخر سچائی کی چمک خود اُن کے دل کو روشن کر دیتی ہے ۔ اُن کی انکھیںکھل جاتی ہیں اور اُن کے کانوںمیںنئی قوت پیدا ہوتی ہے ۔ دل فکر کرتاہے اور عمل کا رنگ پیداکرتا ہے جس سے وہ سکھ پاتے ہیں۔
دنیامیںہی ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کو نیکی اور بھلائی کاموقع ملے اور وہ اُسے کھو دے تو اس موقع کے ضائع کرنے سے اس کو ایک درد محسوس کرتاہے ۔اس طرح پر جنھوںنے انبیاء علیہ السّلام کازمانہ پایااور اس موقع کو کھو دیا ۔ وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہیں ۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اہل دنیا اس سے بے خبر ہیںاگر اہل دنیا کو مُردوں کے حالات پر اطلاع ہو سکتی اور مُرد ے دنیا میں دوبارہ آکر اپنے حالاے آکر سناسکتے توسب فرشتوں کی سی زندگی بسر کرنے والے ہوتے اور دنیا میں گناہ پر موت طاری ہوجاتی لیکن خداتعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا اور اس معاملے کو پردہ خفا میں رکھا ہے ، تاکہ نیکی اور ثواب کا اجر ضائع نہ ہو جاوے دیکھو اگر امتحان سے پہلے سوالات کو شائع کر دیا جاوے تو ان کے جوابات میں لیاقت کیا معلوم ہو سکتی ہے ؟اسی طرح پر خداتعالیٰ جو مواخذہ کا پریق رکھاہے ، اس کو افراق تفریط سے بچاکر رکھاہے ۔
ایمانیات میںا خفاء
اگر اللہ تعالیٰ سارے پردے کھول دیتااور کوئی امرمخفی اور پوشیدہ نہ ہوتا اور مُردے آآکر کہہ دیتے کہ جنّت ونار سب حق ہیں توبتائوکہ کوئی دہریہّ اور بت پرست رہ سکتاہے ؟
مثلاًاگر یہاں ہی کے دو چار مُردے آکرحقیقت بتادیں اور اپنے پوتوںعزیزوں کو بتائیںتوکوئی رُو گردان وہ سکتاہے ؟ہر گز نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا۔ اب اگر کوئی آفتاب پر ایمان لاوے کہ یہ ہے اور روشنی دیتاہے توبتائو اس ایمان کا کوئی ثواب اسے مل سکتاہے ؟کچھ بھی نہیںاس طرح پر اللہ تعالے ٰنے ایمان کی قدرو قیمت اور نیکی کی جزاکے لیے یہ پسند فرمایا ہے کہ کچھ خفابھی ہو ۔ دانشمند آدمی سعادت مند پاتاہے ۔بیوقوف اس سے محروم رہ جاتاہے اور پھر کوئی ایمانی امرایسا نہیں ہے جس میں حقیقت اور فلسفہ نہ ہو ۔ اس خفامیںعظیم الشان فلسفہ ہے جیساکہ میں نے ابھی کہا ہے کہ اگر ایسا انکشاف ہو تاکہ کوئی چیز مخفی نہ رہ جاتی ۔